رسائی کے لنکس

شکاگو کے مقامی انتخابات اور مسلمان اُمیدوار

  • کینے فرابیوگ

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

محمود ایران سے 1973 میں شکاگو آئے تھے۔ ان کی بیوی اور ان کی ایک بیٹی 2003 میں بام، ایران کے زلزلے میں ہلاک ہو گئے۔ وہ ایک کراٹے انسٹی ٹیوٹ کامیابی سے چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کمیونٹی میں ہر برے بھلے وقت میں ان کا ساتھ دیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ کریں۔ محمود ان دو ایرانی امریکی امیدواروں میں شامل ہیں جو انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اور احمد خان کی طرح وہ شکاگو سٹی کونسل کے لیے پہلے ایران نژاد امریکی ہوں گے۔

منگل کے روز شکاگو میں مقامی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بیشتر لوگوں کی توجہ میئر کے انتخاب پر ہے جس میں وائٹ ہاؤس کے سابق چیف آف اسٹاف راہم عیمن اور سابق سینیٹرکارل موسیلی بران دوسرے امیدواروں سے آگے ہیں۔ لیکن اسی دن ہونے والے انتخابات میں شکاگو کی سٹی کونسل میں نشستوں کے لیے کئی مسلمان امریکی بھی امیدوار ہیں۔

احمد خان وارڈ نمبر 50 سے سٹی کونسل کی رکنیت کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کے والدین بھارت سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔ احمد خان نے اپنے والدین کے گراسری اسٹور پر کام کیا ہے اور وہ اس بستی میں رہنے والے بہت سے لوگوں کو جانتےہیں۔’’ ہم سیاست میں عام لوگوں کی شرکت کی بات کرتے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ہمارے منتخب عہدے داروں کو عام لوگوں سے رابطہ کرنا چاہیئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وارڈ میں عام لوگوں سے رابطے کی کمی ہے‘‘۔

احمد خان جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس وارڈ میں مذہبی رواداری کی بھی کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’میں نے اپنی انتخابی مہم میں اور اپنے لٹریچر میں اپنے آپ کو کُھل کر مسلمان ظاہر کیا ہے۔ میں نے بہت سی مسلمان فلاحی تنظیموں کے بارے میں بات کی ہے اور انٹرویوز میں بتایا ہے کہ میں کن تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہا ہوں‘‘۔

احمد خان کے علاوہ اور کئی مسلمان امید وار شکاگو کی سٹی کونسل کی رکنیت کے امیدوار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ آج تک کوئی مسلمان امریکی سٹی کونسل کا رکن منتخب نہیں ہو سکا ہے۔

پروجیکٹ موبالائز ایک نیا گروپ ہے جو لوگوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس گروپ کی ریما احمد کہتی ہیں کہ بس تھوڑے دن کی کسر باقی رہ گئی ہے۔ ’’یہ پہلا موقع ہے کہ مسلمان امریکی کمیونٹی نے ایک مقصد کے لیے کوشش کی ہے۔ وہ تماشائی بنے رہنے کے بجائے اس اب سیاسی نظام میں شرکت کر رہی ہے جس کے تحت حکومت چلتی ہے‘‘۔

شکاگو کے مقامی انتخابات اور مسلمان اُمیدوار

شکاگو کے مقامی انتخابات اور مسلمان اُمیدوار




پروجیکٹ موبالائز شکاگو کے جنوب مغربی نواحی علاقوں کے مقامی انتخابات میں مسلمان امریکی امیدواروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ریما احمد کہتی ہیں کہ ’’مسلمان کمیونٹی میں بڑا جوش و جذبہ ہے کہ کئی علاقوں سے ان کے اپنے لوگ آگے آ رہے ہیں۔ ان میں یہ احساس پیدا ہوگیا ہے کہ سیاسی زندگی میں شرکت کے امکانات صرف دوسرے لوگوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ وہ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘‘۔

محمود بیمبیویانی کہتے ہیں کہ شکاگو کے وارڈ نمبر 38 سے وہ سٹی کونسل کی رکنیت کا جو انتخاب لڑ رہے ہیں اس میں ان کا مذہب نہیں بلکہ ان کی اچھی ساکھ سے انہیں فائدہ ہو گا۔’’ایک کہاوت ہے کہ کامیابی ہر قسم کے تعصب پر حاوی ہو جاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں ایک کامیاب انسان ہوں اور میرے خیال میں بہت سے لوگ میری عزت اس لیے کرتے ہیں کہ میں کس قسم کا انسان ہوں، انہیں اس سے مطلب نہیں کہ میرا نام کیا ہے‘‘۔

محمود ایران سے 1973 میں شکاگو آئے تھے۔ ان کی بیوی اور ان کی ایک بیٹی 2003 میں بام، ایران کے زلزلے میں ہلاک ہو گئے۔ وہ ایک کراٹے انسٹی ٹیوٹ کامیابی سے چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کمیونٹی میں ہر برے بھلے وقت میں ان کا ساتھ دیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ کریں۔ ’’میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ بڑا اچھا وقت ہے یہ بڑا صحیح وقت ہے اور لوگ دل کھول کر مجھے قبول کر رہے ہیں‘‘۔

محمود ان دو ایرانی امریکی امیدواروں میں شامل ہیں جو انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اور احمد خان کی طرح وہ شکاگو سٹی کونسل کے لیے پہلے ایران نژاد امریکی ہوں گے۔

انتخاب کا نتیجہ چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو پروجیکٹ موبالائزکو سیاسی تاریخ میں ایک مقام مل رہا ہے۔ اس پراجیکٹ نے اپریل میں ہونے والے شکاگو کے نواحی علاقے کے میونسپل انتخاب کے لیے سات مسلمان امریکی امیدواروں کی حمایت کی ہے اور اس میں سے پانچ امیدوار عورتیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG