رسائی کے لنکس

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی طرف سے دھمکیاں طاقت کی علامت نہیں اور نا ہی عزت کی۔

صدر براک اوباما جنوبی کوریا کے دو روزہ دورے کے بعد ملائیشیا پہنچ گئے ہیں جو کہ گزشتہ 47 سال میں امریکی صدر کا اس ایشیائی ملک کا پہلا دورہ ہے۔

روانگی سے پہلے سیول میں امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ’’اپنے اتحادیوں اور اپنے طرز زندگی کے دفاع کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام نہیں لے گا۔‘‘

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب شمالی کوریا چوتھا جوہری تجربہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ ’’میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکہ کا جمہوری کوریا سے سیکورٹی سے متعلق وعدہ جارحیت کی صورت میں مزید پختہ ہوتا ہے۔ ہمارا اتحاد ان کی توجہ حاصل کرنے کی کسی حرکت سے متاثر نہیں ہوتا، اسے صرف دنیا کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی مسلسل کوشش اسے مزید تنہا کرتی ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی طرف سے دھمکی طاقت کی علامت نہیں اور نا ہی عزت کی۔

جنوبی کوریا کی اپنی ہم منصب کے ساتھ سیول میں پریس کانفرنس سے صدر اوباما نے کہا کہ جوہری تجربے سے پیانگ یانگ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے عالمی سطح پر تنہائی کے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ شمالی کوریا کی جارحیت کے خلاف سیول کے شانا بہ شانہ کھڑا ہوں گے۔

ملائیشیا کے دورے کے بعد صد اوباما فلپائن جائیں گے جس کا چین کے ساتھ سرحدی تنازع چل رہا جس کے نتیجے میں فلپائن کی واشنگٹن سے فوجی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔
XS
SM
MD
LG