رسائی کے لنکس

امریکہ، ملائیشیا ’’جامع شراکت داری‘‘ پر متفق


ملائیشیا کے حقوق انسانی سے متعلق سوال پر صدر اوباما کا کہنا تھا کہ کوالالمپور نے اس بارے میں پیش رفت کی ہے لیکن ابھی بھی کچھ کام کرنا باقی ہے۔

امریکہ اور ملائیشیا کے رہنما تعلقات میں بہتری لاتے ہوئے اسے’’جامع شراکت داری‘‘ میں تبدیل کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق سے بات چیت کے بعد صدر براک اوباما نے کہا کہ دونوں ملک بین البحرالکاہل تجارتی معاہدے اور جوہری پھیلاؤ سے متعلق سکیورٹی کے اقدامات پر تعاون پر متفق ہوئے ہیں۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ملائیشیا کے لاپتا مسافر طیارے کی تلاش میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

ملائیشیا کا یہ طیارہ تقریباً سات ہفتے قبل کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے غائب ہو گیا تھا۔

ملائیشیا میں حقوق انسانی سے متعلق سوال پر صدر اوباما کا کہنا تھا کہ کوالالمپور نے اس بارے میں پیش رفت کی ہے لیکن ابھی بھی کچھ کام کرنا باقی ہے۔

کوالالمپور میں صدر اوباما کے اعزاز میں ایک عشائیے میں ملائیشیا کے بادشاہ عبدالحلیم نے کہا کہ ان کا ملک طیارے کی تلاش کے لیے امریکہ کی ’’غیر متزلزل امداد اور تعاون‘‘ کا شکر گزار ہے اور دونوں ملکوں کی مضبوط اقتصادی تعلقات کی تعریف کرتا ہے۔

2009 میں صدر بننے کے بعد مسٹر اوباما کا ایشیا کا یہ پانچواں دورہ ہے۔ وہ یہ وعدہ کرچکے ہیں کہ وہ بحرالکاہل کے ممالک کو امریکہ کے لیے زیادہ اقتصادی، سفارتی اور فوجی ترجیح بنائیں گے۔

ملائیشیا کے لیے روانگی سے پہلے سیول میں امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن ’’اپنے اتحادیوں اور اپنے طرز زندگی کے دفاع کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام نہیں لے گا۔‘‘

جنوبی کوریا کی اپنی ہم منصب کے ساتھ سیول میں پریس کانفرنس سے صدر اوباما نے کہا کہ جوہری تجربے سے پیانگ یانگ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے عالمی سطح پر تنہائی کے۔

صدر اوباما آٹھ روزہ دورہ ایشیا پر ہیں جس میں وہ جنوبی کوریا اور جاپان کے دورے کر چکے ہیں اور ملائیشیا کے بعد وہ فلپائن جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG