رسائی کے لنکس

’داعش کی ایما پر دہشت گردی کا منصوبہ بنایا تھا‘


حکام میڈیا کو کیس کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں

حکام میڈیا کو کیس کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں

عدالتی ریکارڈ کے مطابق سولوون زیادہ سے زیادہ ہلاکتوں کے لیے کسی کلب، کانسرٹ ہال یا بار میں حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

ایک امریکی نوجوان نے عدالت میں شدت پسند تنظیم "داعش" کی حوصلہ افزائی پر دہشت گردی کرنے پر آمادہ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

وفاقی استغاثہ کے مطابق شمالی کیرولائنا سے تعلق رکھنےو الے 20 سالہ جسٹن این سولوون شمالی کیرولائنا اور ورجینیا میں سیکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے اسلحے کے استعمال کا ارادہ رکھتا تھا تاکہ وہ داعش سے اپنی وفاداری ثابت کر سکے۔

اس نوجوان کو ایف بی آئی اے کے ایک خفیہ ایجنٹ نے گرفتار کیا تھا۔ منگل کو سولوون نے شمالی کیرولائنا میں ایشویل کی عدالت میں اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے کہا وہ عمر قید کی سزا کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی حکام کے مطابق سولوون نے اعتراف کیا کہ اس نے داعش کے لیے آن لائن بھرتی کرنے والے عسکریت پسند جنید حسین کے ساتھ مل کر سازش تیار کی تھی اور یہ دونوں نوجوان امریکیوں سے رابطے میں رہتے تھے۔

برطانوی شہری جنید حسین کو داعش کے عہدیداروں میں تیسرے نمبر کا عہدیدار تصور کیا جاتا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اگست 2015ء میں شام میں ہونے والی ایک فضائی کارروائی میں مارا گیا۔

عدالت کے ریکارڈ کے مطابق سولوون نے ایف بی آئی کے خفیہ ایجنٹ کے ساتھ بھی اپنے منصوبے کا تذکرہ کیا اور اسے بھی داعش میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کیا۔ یہ نوجوان آن لائن اسلحہ سازی سے متعلق ریسرچ بھی کرتا رہا۔

ریکارڈ کے مطابق سولوون زیادہ سے زیادہ ہلاکتوں کے لیے کسی کلب، کانسرٹ ہال یا بار میں حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

سولوون کو اس طرف راغب کرنے والے جنید حسین نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ حملے کی وڈیو بھی تیار کی جائے اور سولوون اس پر بھی آمادہ ہو گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سولوون پر اپنے ایک پڑوسی جان بیلی کلارک کو دسمبر 2014ء میں قتل کرنے کا بھی شبہ ہے کیونکہ جس بندوق سے یہ قتل ہوا وہ سولوون کے والد کی ملکیت ہے۔

تاہم سولوون اس الزام سے انکار کرتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG