رسائی کے لنکس

پاکستان میں خود کش حملہ آور کی معاونت پر امریکی شہری کو سزا


ریاض نے خودکش بمبار علی جلیل کو حملے سے پہلے 2450 ڈالر فراہم کرنے کا بندوبست کیا اور حملے کے بعد دہشت گرد کی بیویوں کی بھی مالی معاونت کی اُنھیں صلاح مشورہ بھی دیتا رہا۔

امریکہ کی ایک عدالت نے پاکستان میں ایک خودکش بم حملہ کرنے والے دہشت گرد کو مالی معاونت فراہم کرنے والے شہری کو سات سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

پورٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے ریاض خان نے رواں سال فروری میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے 2009ء میں پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی "آئی ایس آئی" کے لاہور میں واقع دفتر پر خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد سے مالی تعاون کیا۔

اس دھماکے میں کم ازکم 30 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

51 سالہ ریاض نے خودکش بمبار علی جلیل کو حملے سے پہلے 2450 ڈالر فراہم کرنے کا بندوبست کیا اور حملے کے بعد دہشت گرد کی بیویوں کی بھی مالی معاونت کی اُنھیں صلاح مشورہ بھی دیتا رہا۔

جمعہ کو سنائی گئی سزا کے موقع پر ریاض نے کوئی بات نہیں کی لیکن فروری میں اس نے کہا تھا کہ وہ جانتا تھا کہ جلیل ممکنہ طور پر "تشدد کے لیے پاکستان جا رہا ہے لیکن اصل منصوبے کے بارے میں" اسے علم نہیں تھا۔

پاکستانی نژاد ریاض خان 1988ء سے امریکہ میں مقیم ہے۔ اسے مارچ 2013ء میں گرفتار کیا گیا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ جلیل نے ریاض کو 2008ء میں پاکستان کے لیے اپنے سفر سے متعلق ای میل کیا۔ وہ مالدیپ کے اس چھوٹے سے گروپ سے تعلق رکھتا تھا جو پاکستان میں تربیت کی غرض سے جانا چاہتا تھا لیکن حکام نے اسے حراست میں لے کر نظر بند کر دیا۔

ریاض پر عائد فرد جرم کے مطابق اس نے جلیل کو ایسی ہدایات دیں جن سے وہ کسی کی نظر میں نہ آئے اور اسے مالی معاونت کی پیشکش بھی کی۔ اکتوبر 2008ء میں جلیل نے پیسیوں کی درخواست کی جس پر ریاض نے اس کے لیے 2450 ڈالر کا بندوبست کیا جو کراچی میں اسے ملنا تھے۔

جلیل ان تین لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے خودکش حملہ کیا۔ القاعدہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک وڈیو میں حملے سے قبل وہ اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

XS
SM
MD
LG