رسائی کے لنکس

مشرق وسطی ٰ میں قیام امن میں امریکہ کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟

  • آمنہ خان

اسرائیل کی جانب سے متنازع علاقے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا اعلان عالمی خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب امریکی نائب صدر جو بائڈن امن مذاکرات شروع کرانے کی کوششوں کے سلسلے میں علاقے کے دورے پر تھے۔ اس اعلان کی ، جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے،امریکہ، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور روس نے بھی مذمت کی ہے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے اس واقعے کی تفتیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ مشرق وسطی میں امن کے استحکام کے لیے امریکہ کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

تاریخ کے نقطہ نظر سے امریکہ نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور صدر اوباما کی انتظامیہ بھی مشرق وسطی میں امن کے قیام پر زور دے رہی ہے۔ لیکن حال ہی میں نائب صدر بائیڈن کےیروشلم کے دورے میں اسرائیل نے اس شہر کے مشرقی علاقے میں گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا، اس کے باوجود امریکہ نے اسرائیل سے یہاں فی الحال تعمیر اتی کام روکنے کی درخواست کی تھی ۔

صدر اوباما کے خصوصی مشیر ڈیوڈ ایکسلروڈ کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی توہین ہی نہیں تھی، بلکہ اس اعلان نے ایک کٹھن مرحلے میں اور بھی مشکلات پیدا کر دیں۔ ہم نے ابھی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان proximity talksشروع کرائیں تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہ اعلان مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کے مقصد سے کیا گیا ہو، جس کی وجہ سے اس علاقے میں امن قائم کرنے کے تمام خواہشمند حلقے بہت پریشان ہیں۔

امریکہ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری کا کہنا ہے کہ امریکہ امن ٕمذاکرات کرانے میں اہم کردا ادا کر سکتا ہے۔

لیکن امریکہ کے ایک سابق سفیرڈینیئل کرٹزرنےسینیٹ کے اسی اجلاس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ کہ مشرق وسطی میں امن قائم کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، اور اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صدر اوباما کی انتظامیہ کو مزید محنت کرنا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مجھے یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ امریکہ نے امن کے اس عمل میں مزید قوت اور جرآت کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اس عرصے میں یروشلم کے اسرائیلی اور فلسطینی شہری بھی مشرق وسطی میں امن کے قیام میٕں امریکی اہمیت کو جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مشرقی یروشلم میں رہنے والے ایک رہائشی ابوعمر کہتے ہیں کہ انہوں نے بہت سال پہلے ہی یہ ثابت کر دیا تھا کہ ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ کیونکہ امریکیوں کو کسی دوسرے کی نہیں، صرف اسرائیل کے تحفظ کے بارے میں فکرہے۔

وہاں رہنے والے ایک یہودی تحیلہ بارشہٹ کا کہنا ہے کہ اگر اوباما اسرائیل کےمخالفین کو روکیں ، تو وہ اسرائیل کی مخالفت میں کمی کر دیں گےاور ممکن ہے کہ اس طرح امن قائم کرنے کے مواقع پیدا ہوں۔

فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان اختلاف رائے ضرور ہے، لیکن دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ اس خطے میں امن کے استحکام میں امریکہ کی شمولیت ضروری ہے۔ زید عصالی فلسطین کو درپیش مسائل سے امریکیوں کو آگاہ کرتے ہیں۔ انہوں نے بھی سینیٹ کے اس پینل کے سامنے بیان دیا۔ ان کا کہناتھا کہ امریکہ وہ ساتھی ہے جو تمام پارٹیوں کو مذاکرات اور سمجھوتے پر راضی کر سکتا ہے۔

امریکہ نے مشرق وسطی میں استحکام قائم کرنے کے سلسلے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ 1978 ءمیں امریکہ نے مصر اور اسرائیل کے درمیان سمجھوتے کرائے، اور 1993 ءمیں وائٹ ہائس کے باغ میں فلسطینی اور اسرائیلی حکام نے امن ٕمذاکرات کرنے کا عہد کیا۔ لیکن امن قائم کرنے کے لیے مذاکرات کرانے ضروری ہیں، جو اس وقت امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔

XS
SM
MD
LG