رسائی کے لنکس

مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے نئے طریقوں کی ضرورت پر زور

  • میریڈتھ بیول

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہوامریکی خصوصی نمائندے جارج مچل کے ہمراہ

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہوامریکی خصوصی نمائندے جارج مچل کے ہمراہ

اسرائیل اور فلسطینیوں نے 17 مہینوں کے وقفے کے بعد مئی میں ایک بار پھر امن مذاکرات شروع کیے ۔علاقے میں امن قائم کرنے کی اس تازہ ترین کوشش میں امریکہ ایک بار پھر آسانیاں فراہم کر رہا ہے۔ تا ہم مشرقِ وسطیٰ کے بعض تجزیہ کار اور وہ لوگ جنھوں نے ماضی میں مذاکرات میں حصہ لیا ہے، اس تنازع میں سفارتکاری کی افادیت کے بارے میں شکو ک کا اظہار کر رہے ہیں۔

تقریباً 40 سال سے بیشتر امریکی صدور اور ان کے سفارتکار مشرقِ وسطیٰ میں امن لانے کی کوششوں میں سرگرمی سے حصہ لیتے رہے ہیں۔ امن کے عمل کی اصطلاح سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر نے وضع کی تھی جن کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اکتوبر 1973 کی عرب اسرائیلی جنگ ختم ہوئی۔ اس وقت سے اب تک، امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارتکاروں نے اسرائیلی فلسطینی تنازع کو ختم کرنے کے لیے علاقے کے بے شمار دورے کیے ہیں۔

اب امریکی مندوب جارج مچل بالواسطہ بات چیت کے ذریعےمذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش میں یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان آ جا رہے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ میں علاقے میں جامع امن اور سکیورٹی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا۔

فارن پالیسی میگزین کے تازہ شمارے میں آرون ڈیوڈ مِلر کا ایک مضمون شائع ہوا ہے ۔ مسٹر ملر نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل پر کافی کام کیا ہے۔ وہ اس موضوع پر امریکہ کے چھ وزرائے خارجہ کے مشیر رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ علاقے میں بڑی اہم تبدیلیاں آئی ہیں اور اب یہ کہیں زیادہ تکلیف دہ اور پیچیدہ ہو گیا ہے ۔

ملر سوال کرتے ہیں کہ پہلے بہت سے امریکی صدور کی کوشش کے باوجود جو مقصد حاصل نہ کر سکے، کیا اوباما وہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں؟ اس مسئلے کے بارے میں علاقے میں جلد کچھ کرنے میں عدم دلچسپی اور قیادت کے فقدان کو، کیا اوباما اپنی شدیدخواہش اور اپنی قیادت سے پورا کر سکتے ہیں؟ ملر کے خیال میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہے لیکن صدر اس معاملے میں اپنی کوششوں کو آزمانے کے لیے تیار ہیں۔

ملر کے مضمون کی وجہ سے واشنگٹن سے یروشلم تک بحث چِھڑ گئی ہے کیوں کہ مصنف کہتے ہیں کہ کئی عشروں تک یہ ہوتا رہا ہے کہ ہم نے بہت اچھی توقعات وابستہ کر لی ہیں اور ان کا خاتمہ تشدد اور دہشت گردی پر ہوا ہے۔ اس لیے وہ اب امن کے عمل کے بنیادی اصولوں پر یقین نہیں رکھتے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مارک لینچ بھی یہی کہتے ہیں کہ اب کوئی نیا طریقۂ کار اختیار کرنا ضروری ہے ۔’’ مشرقِ وسطیٰ میں برسوں تک امن لانے کی کوششیں کرنے اور ناکام رہنے کے بعد اور گذشتہ سال اوباماانتظامیہ کی اتنی سخت لیکن بے نتیجہ کوشش کے بعد شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کچھ توقف کریں اور بنیادی اصولوں پر نظرِ ثانی کریں۔ دوسرے الفاظ میں، اگر آپ چند بار دوڑتے ہیں اور دیوار سے ٹکرا کر لہو لہان ہو جاتے ہیں، تو کیا آپ کو پیچھے ہٹ کر اور زیادہ تیز دوڑنا چاہیئے اور پھر دیوار سے ٹکرانا چاہیئے، یا شاید کوئی اور طریقہ آزمانا چاہیئے ۔‘‘

نیو امریکہ فاؤنڈیشن کے ڈینئیل لِیوے کی دلیل یہ ہے کہ امن مذاکرات سے متعلق بہت سے عوامل تبدیل ہو چکے ہیں اور اب نئے حقائق کی روشنی میں ہمیں اپنا طریقہ بدلنا چاہیئے ۔’’یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے ۔ آپ دو عشروں سے اس مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس دور میں فلسطینیوں کی قومی تحریک دم توڑ گئی۔ ایک بڑا واقعہ یعنی غزہ سے اسرائیل کی واپسی ، امن کے عمل کے باہر ہوا، اسرائیل کا امن کیمپ ختم ہو گیا، فلسطینیوں کے تاریخی قومی لیڈر یاسر عرفات کا انتقال ہو گیا اور ان تمام باتوں کے باوجود آپ پھر بھی اسی راستے پر چلتے رہنا چاہتے ہیں۔‘‘

روب مالی انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے وابستہ ہیں۔ وہ 2000 میں کیمپ ڈیوڈ میں امریکہ کی طرف سے مذاکرات کرنے والوں میں شامل تھے ، جب اسرائیلی اور فلسطینی جامع امن سمجھوتے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ناکامی کی وجہ سے ہی دوسرا intifada شروع ہوا جب فلسطنیوں نے اسرائیلی قبضے کے خلاف مہم شروع کی ۔مالی کہتے ہیں کہ آج کل مشرقِ وسطیٰ میں جو ماحول ہے ، اس میں امن کے عمل کو دوبارہ زندہ کرنا بہت مشکل ہو گا۔ ہمیں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے علاقائی ماحول کو تبدیل کرنا ہو گا۔

آرون ڈیوڈ ملر جو کیمپ ڈیوڈ میں امریکہ کی طرف سے مذاکرات کرنے والوں میں شامل تھے ، کہتے ہیں کہ انہیں تشویش یہ ہے کہ امن مذاکرات کے ایک اور ناکام راؤنڈ سے مزید تشدد کو ہوا ملے گی۔ ’’کیمپ ڈیوڈ کی ناکامی اور موجود ہ دور کا درمیانی دس سال کا عرصہ تشدد اور خونریزی سے بھر پور تھا اور اب تعلقات میں برائے نام کچھ پیش رفت ہوئی ہے ۔اگر ایک بار پھر کوشش کی گئی اور اس میں ناکامی ہوئی تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے۔ میر ی اصل پریشانی یہی ہے ۔‘‘

فلسطینی ان علاقوں میں اپنی مملکت چاہتے ہیں جن پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا اور مشرقی یروشلم کو اس مملکت کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے فلسطینی مملکت کے تصور کو قبول کر لیا ہے لیکن اس میں ان کی کچھ شرائط ہیں اور وہ مشرقی یروشلم کو چھوڑنے کو تیار نہیں۔ مسٹر نیتن یاہو یکم جون کو وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

XS
SM
MD
LG