رسائی کے لنکس

امریکہ کے مڈٹرم الیکشن کا نظام

  • عمران صدیقی
  • جیفری ینگ

امریکہ کے مڈٹرم الیکشن کا نظام

امریکہ کے مڈٹرم الیکشن کا نظام

اگلے ماہ کے شروع میں امریکہ میں پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں ۔ ان انتخابات کے لیے اکثر مڈٹرم الیکشن کی اصطلاح استعمال کی جارہی ہے۔ یہاں مڈٹرم سے مراد یہ نہیں ہے کہ یہ پارلیمنٹ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہورہے ہیں ، بلکہ امریکہ میں مڈٹرم یا وسط مدتی انتخابات ، ان انتخابات کو کہاجاتا ہے جو اپنے عہدےپر موجود صدر کی چار سالہ عہدے کی مدت کے وسط میں ہوتے ہیں۔ یہاں پچھلے صدارتی انتخابات 2008ء میں ہوئے تھے، جن میں براک اوباما چار سال کی ایک مدت کے لیے صدر چنے گئے تھے۔ جب کہ اگلے صدارتی الیکشن 2012ء میں ہوں گے۔ چونکہ نومبر کے انتخابات موجودہ صدر کے اپنے عہدے پر فائز ہونے کے دو سال بعد ہورہے ہیں، اس لیے انہیں مڈٹرم کہا جارہاہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے دو برس بعد ووٹرز دوبارہ ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔ گو کہ ان انتخابات سے واہائٹ ہاؤس کو کوئی خطرہ نہیں مگر اس کے نتائج صدر اور ان کی انتظامیہ کے ایجنڈے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں،بھی کم اورکبھی کبھار بہت زیادہ۔

نومبر کے پہلے منگل کو امریکی ووٹرز ایوان ِ نمائندگان کی کل 435 نشستوں کے لیے اپنے رائے دہی کے حق کا استعمال کریں گے۔ جبکہ سینٹ کی 37 نشستوں کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔ جبکہ 37 امریکی ریاستوں کے ووٹرز اپنے اپنے گورنرز چنیں گے۔

یہ انتخابات محض کانگریس کا خاکہ ہی نہیں بناتے، بلکہ ان وسط مدتی انتخابات پر صدر کی دو سالہ کاررکردگی کو بھی جانچا جاتا ہے۔ جیسا کہ جارج میسن یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسررابرٹ ڈڈلی کا کہنا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کی نوعیت موجودہ انتظامیہ کے لیے ریفرنڈم کی طرح کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ عام طورپر یہ ہوتا آیا ہے کہ صدور اپنی ہی پارٹی میں ایوان ِ نمائندگان اور سینٹ کی اکثریتی نشستوں سے محروم ہوجاتے ہیں ، خاص طور پر صدر کے کرسی ِ صدارت کے بعد ہونے والے پہلے وسط مدتی انتخابات میں ۔ ماضی میں یہ نتائج تمام ہی صدور کے لیے پریشان کن رہے ہیں۔

گو کہ 2002 ءمیں صدر بش اور ری پبلکنز نے اس وقت کے وسط مدتی انتخابات میں ایوان ِ نمائندگان اور سینٹ کی زیادہ نشستیں جیت کر نہ صرف تاریخ مرتب کی تھی بلکہ ایوان ِ نمائندگان کا مکمل کنٹرول بھی حاصل کیا تھا۔

اتنی اکثریت کے ساتھ ہی بش انتظامیہ کانگریس سے ٹیکس کٹوتی کا متنازعہ قانون پاس کرانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر بنجمن گنس برگ کا کہنا ہے کہ ٹیکس کٹوتی پر ڈیموکریٹس کی جانب سے بہت تنقید کی گئی تھی۔ مگر اتنی بھاری اکثریت کے بغیر صدر بش وہ قانون نہیں پاس کرا سکتے تھے۔

جبکہ کیپیٹل ہل پر 2003 ءمیں ری پبلکنز کے کنٹرول کے باعث ہی صدر بش عراق کے خلاف جنگ شروع کر سکے تھے۔

اس کے برعکس، اگر صدر کی سیاسی جماعت کو وسط مدتی انتخابات میں دھچکا لگتا ہے، تو اس سے وہائٹ ہاؤس کے ایجنڈے کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے بلکہ وہ ختم بھی ہو سکتا ہے۔

ایسا ہی سابق صدر بل کلنٹن کے ساتھ ان کے صحت ِ عامہ کے بل کے ساتھ 1992ءمیں ان کے صدارتی انتخابات کے بعد ہوا تھا۔ واشنگٹن کا کا اخباررول کال ، اپنی زیادہ تر توجہ کانگریس پر مرکوز رکھتا ہے۔ رپورٹر Kyle Trygstad کیل ٹرائی گس ٹیڈ اس دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ریپبلکنز 1994ءمیں جیتے تھے۔ لہذا کیپیٹل ہل کا نظام ان کے ہاتھ میں تھا۔ اور جن لوگوں پر بل کلنٹن اپنے بل کے حوالے سے تکیہ کیے ہوئے تھے وہ وہاں نہیں رہے۔ انہیں وسط مدتی انتخابات میں شکست ہوئی تھی۔ لہذا ان کے صحت ِ عامہ کے پیکج کو، جس پر انہوں نے بہت محنت کی تھی ، آخر میں بند ہونا پڑا۔
2006 ءمیں صدر جارج ڈبلیو بش کی دوسری مدت میں کانگریس اور سینیٹ کا نظام ڈیموکریٹس نے سنبھال لیا تھا۔ رپورٹرشان ملر کانگریس پر گہری نظر رکھنے والے ایک اور اخبار دی ہل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹکس نے بش انتظامیہ کے کاموں کو روک دیا تھا۔ اس وقت صدر بش ایک ڈیموکریٹک کانگریس کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے پرجوش نہ تھے۔ اس سے ان کی انتظامیہ کی ترجیحات رک گئی تھیں۔

XS
SM
MD
LG