رسائی کے لنکس

مڈٹرم الیکشن میں ڈیموکرٹیس کی کامیابی سیاہ فام ووٹروں سے مشروط

  • کرس کنز
  • آمنہ خان

مڈٹرم الیکشن میں ڈیموکرٹیس کی کامیابی سیاہ فام ووٹروں سے مشروط

مڈٹرم الیکشن میں ڈیموکرٹیس کی کامیابی سیاہ فام ووٹروں سے مشروط

رائے عامہ کے چند حالیہ جائزوں کے مطابق امریکی ووٹر وں کا خیال ہے کہ دو نومبر کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی امریکی سینیٹ اور کانگریس کی دونوں ایوانوں کی اکثریتی پارٹی بن جائے گی ۔ ریپبلکن پارٹی تمام ریاستوں اور مقامی انتخابات میں بھی نمایاں کامیابیوں کی توقع کررہی ہے ۔ اس صورت حال کے پیش نظر شکست سے بچنے کے لئے ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدواراپنے سیاہ فام حامیوں کو اکٹھا کر نے کی مہم پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔

ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور کے سیاہ فام ووٹروں کو دو نومبر کے روز گھروں سے نکال کے پولنگ بوتھ تک لانے کے لیے کیتھ ہینز نے، جو انتخابات میں خود ایک امیدوار ہیں، کئی رضاکار وں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رضاکاراپنے پڑوسیوں کو ہی نہیں ، ریاست میری لینڈ کے تمام ووٹروں کو انتخابات سے کئی دن پہلے ووٹ ڈالنے کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لئے قائل کر رہے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ گھروں سے نکلیں اور ووٹ ڈالیں ۔ اگر یہ لوگ اپنے شہر آئے ہوئے ہیں تو الیکشن کے دن سے پہلے ووٹ ڈال سکتے ہیں ۔

کیتھ ہینز میری لینڈ کی ریاستی اسمبلی کے تیسری بار امیدوار بنے ہیں اور اپنی انتخابی مہم چلانے کے ساتھ یہ انتخابی عمل کے حوالے سے ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ چند ہفتے پہلے جو پرائمری انتخابات ہوئے ، ان میں ہماری ریاست میری لینڈ میں ووٹروں کی بہت کم تعداد دیکھنے میں آئی تھی ۔ ہم دو نومبر کے انتخابات میں اس تعداد کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ ووٹ ڈالنے کےلئے چلائی گئی یہ عوامی مہم بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ تحقیق کے مطابق امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدارتی انتخابات کے مقابلے میں روایتی طور پر سیاہ فام ووٹروں کی تعداد ایک تہائی کم ہوتی ہے ۔

میلانی کیمپل امریکی سیاہ فاموں کی شہری ذمہ داریوں میں زیادہ شرا کت سے متعلق کی ایک امریکی تنظیم کی سربراہ ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں یہ ہم سب کی شرکت اور ووٹروں کی تعداد کے بغیر ممکن نہیں ۔ سیاہ فام امریکیوں کو خود یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انتخابات اہم ہیں اور ووٹ نہ ڈالنا کسی مسئلے کا حل نہیں ۔

ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ کے طور پر صدر اوباما ڈیمو کریٹس کی کامیابی کے خواہش مند ہیں ۔ اور ظاہر ہے اپنی حزب اختلاف یعنی ریپبلکن پارٹی کو دو نومبر 2010ء کو زیادہ نشستوں پر کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے ۔

سیاسی تجزیہ کار ڈیوڈ بوسائٹس کہتے ہیں کہ اگر سیاہ فام ووٹر ووٹ ڈالنے نکلے تو ڈیمو کریٹس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہونگے ، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو بہت کم ۔

ان کا کہنا ہے کہ اہم نشستوں خصوصا امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں سیاہ فام ووٹروں کا زیادہ ٹرن آوٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔ شاید اس سے ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں وہ اکثریت حاصل نہ ہو سکے جس سے کانگریس کا کنٹرول ان کے ہاتھ میں آنے کا امکان ہو ۔

ڈیوڈ بوسائٹس نے کہا کہ اگر سیاہ اور سفید فام امریکی ووٹروں کی تعداد میں کوئی فرق نہ ہوا تو اس کا فائدہ ڈیمو کریٹک پارٹی کو ہوگا ۔ لیکن اگر سیاہ اور سفید فام ووٹروں کی تعداد میں بہت فرق ہوا تو فائدہ ریپبلکن پارٹی کو پہنچے گا ، کیونکہ ری پبلکن چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈیمو کریٹک پارٹی امریکہ بھر میں سیاہ فام ووٹروں کو فعال کرنے پر دو ملین ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر رہی ہے ۔

ڈیمو کریٹک امیدوارکیتھ ہینز کہتے ہیں کہ یہ ان ووٹروں کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے کئی سال سے ووٹ نہیں ڈالے ۔ ان کا کہناتھا کہ ہم ان لوگوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، جو رجسٹرڈ ووٹر ہیں اور پہلے ووٹ ڈال چکے ہیں ۔ مگر شاید انہوں نے پچھلے کچھ انتخابات میں ووٹ نہ ڈالے ہوں ۔مقصدان میں جوش پیدا کر کے انہیں پولنگ بوتھ تک لانا ہے ۔ ہم انہیں بتا رہے ہیں کہ ان کے ووٹ کی اہمیت ہے ۔

امریکی ادارہ مردم شماری کے مطابق 2008ء کےصدارتی انتخاب میں سیاہ فام امریکی ووٹروں کی تعداد امریکی تاریخ میں پہلی بار سفید فام ووٹروں سے زیادہ تھی ۔ دو نومبر کے انتخابات میں یہ تعداد کم رہنے کا خدشہ ہے اسی لئے ان سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ سیاہ فاموں کو پولنگ بوتھ تک لانے کی کوششوں جاری رکھیں گے ۔

XS
SM
MD
LG