رسائی کے لنکس

مڈٹرم انتخابات اور امریکی مسلمانوں کا خوف


مڈٹرم انتخابات اور امریکی مسلمانوں کا خوف

مڈٹرم انتخابات اور امریکی مسلمانوں کا خوف

ماہرین کے مطابق امریکہ کا معاشی بحران تو ختم ہو گیا ہے مگرعوام کی معاشی مشکلات نہیں ۔ اس پس منظر میں امریکی کانگریس اور سینیٹ کے وسط مدتی انتخابات کا مرحلہ امریکی سیاست کے کینوس پرکچھ عرصے سے نئے مخالفانہ رنگ بھر رہا ہے ۔ جن کا ایک پہلو امریکی ووٹروں کو اسلام اور مسلمانوں سے خوفزدہ کرنے کی مہم ہے ۔کیا امریکہ اسلامو فوبک ہو رہا ہے ؟ کیا مسلمان کمیونٹی کی جانب سے امریکی عوام کو اسلام سے بہتر طور متعارف کرانے کی کوئی کوشش کی جا رہی ہے ؟ اگر نہیں تو ایسی کوشش کیا ہو سکتی ہے ؟ ان سب پہلوؤں پر واشنگٹن میں ان دنوں گفتگو جاری ہے ۔

سلامتی کی طرف بلانے والی آوازوں کو دہشت گردی اور شدت پسندی سے جوڑنے کی مہم کو چاہے ہوا عوامی نمائندہ بننے کے خواہش مندوں کی سیاسی ضروریات دے رہی ہوں، مگر ان پر کان دھرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے ۔ ، یہی خدشہ امریکی مسلمانوں کو اپنے ہم خیال لوگوں کےاور قریب جانے پر مجبور کر رہا ہے ،مگر کیا روشن خیال ، کثیرلا ثقافتی جزیرہ نما امریکہ میں مسلمانوں کی آزادیوں کو محدود کیے جانے کا خدشہ حقیقت پر مبنی ہے ؟ واشنگٹن میں امریکی مسلمانوں کی ایک تنظیم مسلم پبلک افیئر کونسل کے حارث ترین اس کا جواب انکار میں دیتے ہیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ امریکی معاشرے میں کچھ ایسے عناصر ہیں جو واقعتا اسلام سے خوفزدہ ہیں ۔ جن کا ایک خاص قسم کا ثقافتی ، سماجی اور سیاسی ایجنڈا ہے جو مسلم امریکی کمیونٹی کو مجموعی امریکی معاشرے سے الگ تھلگ کرنا چاہتا ہے ۔ میرے خیال میں وہ آوازیں بڑھ گئی ہیں ۔ اور وہی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کی جانےو الی ساری منفی گفتگو کو عوامی گفتگو کا حصہ بنا رہی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکی معاشرہ اسلام سے خوفزدہ ہو رہا ہے، بلکہ چند لوگ ہیں جو امریکیوں کے ذہنوں میں موجود خوف کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔ لیکن اب ان آوازوں کو آگے بڑھنے کا موقعہ دیا جا رہا ہے اور جو اس گفتگو کا سب سے پریشان کن پہلو ہے۔

ایک حالیہ جائزے کے مطابق امریکہ کی 30 کروڑ 70 لاکھ سے زائد آبادی میں سے 60 فیصد افراد اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ۔ نہ ان کا کوئی مسلمان دوست ہے ، نہ انہوں نے کسی مسلمان کے ساتھ کھانا کھایا اور نہ ہی ایک دوسرے کی تقاریب میں شرکت کی ۔

نیشنل سیکیورٹی اینڈ انٹرنیشنل پالیسی کے منیجنگ ڈائریکٹر کین گوڈ کہتے ہیں کہ جو وہ جانتے ہیں وہ انہیں کبھی خوفزدہ کرتا ہے اور کبھی الجھن میں ڈال دیتا ہے ۔ میرے خیال میں وہ اسلام کے بارے میں اتنا جانتے ہی نہیں کہ اپنی کوئی رائے قائم کر سکیں ۔ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جب لوگوں کو کسی چیز کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوتیں تو وہ سب سے اونچی آواز کو توجہ سے سنتے ہیں ۔ اور اونچی آوازیں اس وقت ان سے کہہ رہی ہیں کہ انہیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے ۔

ایسے میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کے تشدد پسند رجحانات کی کہانیاں 24 گھنٹے کی خبروں کا موضوع بن کر اعتدال پسند امریکیوں کو خوفزدہ اور مسلمان کمیونٹی کو دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہیں ۔

وجاہت علی ایک مصنف اور قانون دان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایک پاکستانی ایک غلط کام کرتا ہے ، جیسے ایک پاکستانی جو ابھی فارن سٹیزن بنا تھا ، اس نے کوئی غلط کام کیا تو اس بیگیج کو کون ڈیل کرتا ہے ، میں کرتا ہوں ، آپ کرتے ہیں ۔ جتنے بھی گورے ہیں کہتے ہیں یہ پاکستانی ایسے کیو ں ہیں ۔ میں کہتا ہوں میں پاکستانی ہوں، میں نے کبھی غلط کام نہیں کیا ۔ تو آپ کو اُن کے کئے کی معذرت کرنی پڑتی ہے ۔ غصہ آتا ہے ۔ آپ کو ڈر بھی لگتا ہے ۔ اگر ایک پاکستانی غلط کام کرے تو لوگ مسلمانوں سے ڈرنے لگتے ہیں ۔ اور اس غصے کو دوسرے پاکستانیوں یا ہندو یا سکھوں کے خلاف یا جو بھی گندمی رنگت والا ہو، اس کے خلاف نکالتے ہیں ۔

دنیا بھر میں سب تسلیم کرتے ہیں کہ 11 ستمبر 2001 ء کے بعد کا امریکہ ویسا نہیں رہا ، جیسا 10 ستمبر 2001ء کو تھا ۔ مگرواشنگٹن کے اس پینل کے مسلمان شرکا یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہاں رہنے والے مسلمانوں کونئے حالات کی نئی ضرورت کے مطابق اپنی زندگیوں میں جیسی تبدیلیاں لانے کی ضرورت تھی ، ویسی تبدیلیاں 10 برسوں میں بھی نہیں لائی جا سکیں ۔

حارث ترین کہتے ہیں کہ بات یہ ہے کہ مسلمان اپنے ساتھی کارکنوں اپنے پڑوسیوں ، سکول بورڈز، پیرنٹ ٹیچرز آرگنائزیشنز میں اس طرح شامل نہیں ہیں کہ ان کی اقدار اور آوازیں عام امریکیوں تک پہنچ سکیں ، جبکہ ایسا کرنے کی ضرورت ہے مقامی اور قومی سطح دونوں پر ۔ مسلمان ماہرین ، سکالرز ، اور لیڈرز کو ایک ایسے اسلام کے بارے میں بات کرتے رہنے کی ضرورت ہے جو امریکی مسلمانوں کی زندگی سے قریب ہو ۔ وہ اسلام جو ترک وطن کر کے امریکہ نہیں آیا بلکہ وہ جو امریکی معاشرے میں مل جل کر اپنا راستہ نکال رہا ہے ، اور جسے اپنانے کے لئے انہیں امریکی معاشرے سے ہٹنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

امریکی عوام کو اسلام سے خوفزدہ کرنے کی مہم کی ایک وجہ بعض لوگوں کے مطابق موجودہ امریکی صدر کا سیاہ فام ہونا اور اس کی مسلمان وراثت کی موجودگی بھی ہو سکتی ہے ۔ مگر سینٹر فار امیرکن پراگریس کے کین گڈ کہتے ہیں کہ امریکی سیاست میں انتہائی دائیں بازو کی ایک تحریک ہمیشہ سے موجود رہی ہے ، جسے اس بار آواز اونچی کرنے کا موقعہ مل گیا ہے ۔

کین گوڈ کہتے ہیں کہ یہ صرف باراک اوباما نہیں ہیں ۔ یہ صرف جان کینیڈی نہیں ہیں ۔ اس تحریک کی جڑیں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں مگر یہ ہمیشہ سے موجود تھی ۔

لیکن ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ امریکہ کا بہت مشکل وقت ہے ۔ معیشت کی حالت خراب ہے ۔ کسی کو کسی چیز کے بارے میں زیادہ اعتماد نہیں کہ یہ کس طرف کو جا رہی ہے ۔ اس کا رد عمل بہت سے لوگ دکھا رہے ہیں ، صرف امریکی نہیں دنیا بھر میں دوسرے بھی ۔ وہ تبدیلی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں یا ان لوگوں کے خلاف جو ان مسئلوں کی وجہ ہو سکتے تھے ۔ اس کا تعلق بہت کم اس بات سے ہے کہ براک اوباما پہلے سیاہ فام صدر ہیں یا براک اوباما کا درمیان کا نام حسین ہے ۔

ایک اندازے کے مطابق امریکی اسپتالوں میں کام کرنے والے ہر 25 ڈاکٹروں میں سے ایک مسلمان ہے ۔ مگر پیشہ ورانہ مہارت کے تمام شعبوں میں مسلمانو ں کی مثبت موجودگی کے باوجود ان کی سیاسی آواز مضبوط ہونے میں کمیونٹی کے نمائندوں کے مطابق ابھی کچھ وقت مزید لگے گا ۔ اور تب تک کے لئے انہیں کیا کرنا ہوگا ؟

وجاہت علی کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کی کہانی کیاہے ۔ پاکستانی امریکی کہانی کیا ہے ۔ کیا وہ فیصل شہزاد ہے ۔ آپ جتنے بھی پاکستانی امریکن یہاں رہ رہے ہیں تیس چالیس سال سے ۔ میں اتنے عرصے سے یہاں ہوں ۔ آرام کی زندگی ۔ میں ٹیکس ادا کرتا ہوں میں سٹیزن ہوں ۔ ایک دفعہ بھی مجھے سزا نہیں ہوئی ۔ میرا پڑوسی یہودی بھی ہے ، عیسائی بھی ہے ۔ میں ان کی مدد کرتا ہوں ۔ یار یہ میری کہانی ہے ۔ یہ ہے کہانی ایک پاکستانی امریکی کی ۔ میری کہانی فیصل شہزاد کی کہانی نہیں ہے ۔

میری کہانی نہیں ہے ملا عمر ۔ یہ میری کہانی نہیں ہے ۔ میں مسلمان بھی ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں ،رمضان میں روزے رکھتا ہوں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں سب یہودیوں سے نفرت کرتا ہوں یا عیسائیوں سے ، یا میں تم کو قتل کر دوں گا ۔ یا امریکہ میں شریعہ لاگو کروں گا ۔ میں امریکہ میں آیا ہوں کیونکہ مجھے ایک زندگی گزارنا تھا ۔ مجھے ایجو کیشن چاہئے تھی ۔ میرے بچے جو یہاں پیدا ہوئے یہاں کی کالجز میں پڑھے ۔ یہاں شادی کریں گے ، یہاں ٹہریں گے ۔ یہاں ہی کام کریں گے ۔ یہ میری کہانی ہے ۔ میں امریکن ہوں ۔ میں مسلمان بھی ہوں ، پاکستانی بھی ہوں اور یہ وہ کہانیاں ہیں جو سنائے جانے کی ضرورت ہے ۔

اعتدال پسند امریکیوں کا کہنا ہے کہ امریکی معاشرے نے ہر نسلی اقلیت کو اپنے اندر جذب کیا ہے اور مسلمان بھی امریکی معاشرے کا ویسے ہی حصہ بنیں گے جیسے دیگر نسلی اقلیتیں بنی ہیں ۔ یہی امریکہ کی تاریخ ہے

کین گوڈ کہتے ہیں کہ یہی امریکہ کی کہانی ہے ۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ یہ کہانی آنے والے برسوں میں تبدیل ہوگی ۔

XS
SM
MD
LG