رسائی کے لنکس

ری پبلکنز، ڈیموکریٹس کی انتخابی سرگرمیاں عروج پر


ری پبلکنز، ڈیموکریٹس کی انتخابی سرگرمیاں عروج پر

ری پبلکنز، ڈیموکریٹس کی انتخابی سرگرمیاں عروج پر

امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کی جانب سےکانگریس کے کل ہونے والے وسط مدتی انتخابات کیلیے ووٹرز کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں اور دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کے منگل کے رو ز ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز کا پلڑا بھاری ہے اور انہیں کانگریس کے دونوں میں سے کسی ایک ایوان میں برتری حاصل ہوسکتی ہے۔

پیر کے روز جاری ہونے والے ایک سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بار ری پبلکنز کو حاصل برتری کا تناسب گزشتہ دہائیوں میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل دونوں بڑی جماعتوں میں سے کسی ایک کو حاصل ہونے والی مقبولیت سے زیادہ ہے۔

یو ایس اے ٹوڈے اور گیلپ کی جانب سے 1500 رائے دہندگان سے مشترکہ طور پر کیے گئے سروے کے مطابق 55 فی صد افراد کا کہنا تھا کہ وہ منگل کے روز ہونے والے انتخابات میں اپنا ووٹ ری پبلکنز کو دینگے۔ سروے میں ری پبلکنز کو ملنے والی مقبولیت کا تناسب 1974 کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کسی جماعت کو قبل از الیکشن حاصل ہونے والی پذیرائی سے زیادہ ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ری پبلکن پارٹی امریکی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی، تاہم اسے سینیٹ میں اکثریت کے حصول کی کوششوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الوقت امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہے۔

امریکی معاشی صورتِ حال ڈیمو کریٹس کیلیے رواں سال پریشانی کا سبب بنی رہی ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال کے بارے میں پائی جانے والی عوامی ناراضگی 2 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹ کو نقصان اور ری پبلکنز کو فائدہ پہنچانے کا سبب بنے گی۔

ری پبلکن رہنمائوں کا کہنا ہے کہ اس بار سیاسی حرکیات اور درجہ حرارت بالکل اسی طرح ان کے حق میں ہیں جس طرح 2006 اور 2008 میں ان کا فائدہ ڈیموکریٹس کو پہنچا تھا۔

منگل کو ہونے والے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 37 نشستوں کیلیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی امریکی ریاستوں میں گورنرز اور دیگر مقامی عہدیداران کا انتخاب بھی عمل میں آرہا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما حال ہی میں اپوزیشن جماعت ری پبلکنز کی پیش قدمی کو روکنے اور اپنے ڈیمو کریٹس ساتھیوں کی انتخابی مہم چلانے کی غرض سے چار امریکی ریاستوں کے دورے سے واپس لوٹے ہیں۔

اپنے دورے کے دوران کلیو لینڈ، اوہائیو میں اتوار کے روز ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے حالیہ معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا سبب ماضی کی ری پبلکن انتظامیہ کی پالیسیوں کو قرار دیا۔ تاہم ری پبلکنز حالیہ خراب معاشی صورت حال کی تمام تر ذمہ داری صدر اوباما پر عائد کرتے ہیں۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر ری پبلکن پارٹی امریکی کانگریس پر اپنی گرفت مضبوط بنانے میں کامیاب ہوگئی تو صدر اوباما کیلیے کانگریس سے اپنے تجویز کردہ قوانین کی منظوری حاصل کرنا مزید مشکل ہوجائے گا۔

XS
SM
MD
LG