رسائی کے لنکس

امریکہ: جنس تبدیل کرنے والے افراد کی فوج میں شمولیت پر پابندی اٹھانے پر غور


فائل فوٹو

فائل فوٹو

2011ء میں امریکی فوج نے اپنی ’’نہ پوچھو، نہ بتاؤ‘‘ کی پالیسی باضابطہ طور پر ختم کر دی تھی، جس کے تحت ہم جنس پرست افراد فوج میں اس وقت تک اپنے فرائض سر انجام دے سکتے تھے جب تک وہ اپنی جنسی رجحان کے بارے میں نہ بتائیں۔

امریکہ کی فوج جنس تبدیل کرنے والے افراد کی فوج میں شمولیت کی اجازت پر غور کرے گی اور اس سلسلے میں آئندہ چھ ماہ تک ایک مطالعہ بھی کیا جائے گا۔

وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر نے پیر کو اس مسئلے پر نظر ثانی کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جنس تبدیل کرنے والے ملازمین کے بارے میں وزارتِ دفاع کے موجودہ ضوابط فرسودہ ہیں اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر رہے ہیں جس سے کمانڈروں کی اپنے بنیادی مشن سے توجہ ہٹ رہی ہے۔‘‘

کارٹر نے کہا کہ وہ جنس تبدیل کرنے والے افراد پر پابندی کی موجودہ پالیسیوں پر نظر ثانی کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ گروپ اس مفروضے کے ساتھ اپنا کام شروع کرے گا کہ جنس تبدیل کرنے والے افراد کھلم کھلا فوج میں اپنی خدمات فراہم کر سکتے ہیں، اور معروضی اور عملی رکاوٹوں کی شناخت ہونے کے سوا اس سے فوج کی کارکردگی اور مستعدی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘‘

ان کے بقول ششماہی نظر ثانی کے عمل کے دوران جنس تبدیل کرنے والے کسی بھی ملازم کی سبکدوشی کا فیصلہ ان کے ذاتی انڈر سیکرٹری بریڈ کارسن کے حوالے کیا جائے گا، جو اس ورکنگ گروپ کے سربراہ بھی ہوں گے۔

2011ء میں امریکی فوج نے اپنی ’’نہ پوچھو، نہ بتاؤ‘‘ کی پالیسی باضابطہ طور پر ختم کر دی تھی، جس کے تحت ہم جنس پرست افراد فوج میں اس وقت تک اپنے فرائض سر انجام دے سکتے تھے جب تک وہ اپنی جنسی رجحان کے بارے میں نہ بتائیں۔

’’نہ پوچھو، نہ بتاؤ‘‘ کی پالیسی بل کلنٹن کے دور میں 1993ء میں فوج میں ہم جنس پرستوں پر مکمل پابندی کو ختم کرنے کے لیے عمل میں لائی گئی تھی۔

دو دہائیوں تک اس پالیسی کے قابل عمل میں رہنے کے دوران امریکی فوج سے 14,000 ملازمین کو اپنے جنسی رجحان کا انکشاف کرنے پر فوج سے نکالا گیا۔

XS
SM
MD
LG