رسائی کے لنکس

تخفیف اسلحہ اور میزائل کا دفاعی پروگرام، ایک تجزیہ

  • ال پیسن

گذشتہ جمعے کو امریکہ اور روس کے درمیان تخفیف اسلحہ کے ایک نئے معاہدے کا اعلان ہوا۔ روس اس پروگرام کی سختی سے مخالفت کرتا رہا ہے۔ امریکہ نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے دو برسوں میں اس پروگرام میں اہم پیش رفت ہوگی۔

وائٹ ہاؤس میں جمعے کی صبح معاہدے کے بارے میں صدر اوباما کے اعلان کے بعد، امریکہ کے وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے یہ مختصر سا اعلان کیا’’میزائل کے دفاعی نظام پر اس معاہدے سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘‘

امریکہ کے محکمۂ دفاع اور دفاع کی صنعت میں میزائل کے دفاعی نظام سے متعلق حلقوں کے لیے یہ بڑی اچھی خبر تھی۔ اس ہفتے ان تمام لوگوں کی سالانہ کانفرنس میں مسٹر گیٹس کے نائب ولیم لئین نے کئی سو سرکاری ملازمین اور انڈسٹری کے اعلیٰ افسران کے سامنے یہ فاتحانہ بیان دیا’’اب یہ بحث جو زور شور سے جاری تھی کہ میزائل کے دفاعی پروگرام میں پیسہ لگایا جائے یا نہیں ختم ہو چکی ہے ۔ بلا شبہ بلسٹک میزائلوں سے دفاع ہماری موجودہ اور مستقبل کی حکمت عملی کا اہم جزو ہے ۔ ہم نے میزائل کی نئی ٹیکنالوجیاں تیار کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔‘‘

لئین کئی عشروں سے جاری اس بحث کا حوالہ دے رہے تھے کہ کیا کوئی ایسا میزائل تیار کرنا عملی طور پرممکن ہے جوکسی حملہ آور میزائل کو راستے میں ہی تباہ کر دے اور یہ کام معقول لاگت پر کر سکے۔ابھی یہ بحث مکمل طور سے ختم نہیں ہوئی ہے لیکن اوباما انتظامیہ کے بلسٹک میزائل سے دفاع کے جائزے میں جو فروری میں جاری کیا گیا، اس منصوبے کی تائید کی گئی ہے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جس کی حمایت ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدور اور کانگریس کے ارکان نے کی تھی۔

اب جب کہ میزائل کے دفاعی پروگرام کے بارے میں فیصلہ کیا جا چکا ہے، امریکی فوج کے دوسرے اعلیٰ ترین افسر، جنرل جیمز کارٹ رائٹ کہتے ہیں کہ اب امریکی ملٹری کمانڈز کو کچھ وقت اس سوال کو دینا ہوگا کہ ان کے اپنے علاقوں میں اس نظام کو کس طرح استعمال کیا جائے گا۔ انہیں یہ طے کرنا ہوگا کہ خلیج کے علاقے میں ، یورپ میں، اور بحرالکاہل کے علاقے میں اس نظام سے کس طرح کام لیا جائے گا کیوں کہ ہر علاقے کی ضرورتیں اور حالات ایک جیسے نہیں ہوں گے۔

دس ارب ڈالر لاگت کا یہ دفاعی نظام کئی چیزوں کا مجموعہ ہے۔ اس کا مقصد مختصر، درمیانے اور طویل فاصلوں سے آنے والے حملہ آور میزائلوں کا سراغ لگانا اور انہیں راستے میں ہی تباہ کر دینا ہے ۔ اس پورے کام کے لیے صرف چند منٹ بلکہ بعض اوقات چند سیکنڈ ملیں گے جن میں جوابی کارروائی کرنی ہوگی کیوں کہ حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے سفر کر رہے ہوں گے۔

نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ کو بعض اہم علاقوں میں خاص طور سے وسطی یورپ میں، ایران کے میزائل کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کےلیے ریڈار اور میزائل شکن لانچ کی تنصیبات قائم کرنی ہوں گی۔روس جو تخفیف اسلحہ کے معاہدے میں امریکہ کا پارٹنر ہے اور جو ایران کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ نیوکلیئر اسلحہ تیار نہ کرے، اس انتظام سے بالکل خوش نہیں ہے ۔ روسی کہتے ہیں کہ یورپ میں مزائل کے دفاعی نظام سے توازنِ طاقت تبدیل ہو جائے گا اور ان کے نیوکلیئر اسلحہ کے لیے خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

لیکن سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے اینڈریو کوچنز کہتے ہیں کہ روس کی مخالفت کی اصل وجہ کچھ اور ہے۔’’روسی یہ بات سمجھتے ہیں کہ یہ نظام ایسے نہیں ہیں جن سے روس کی سٹریٹجک طاقت متاثر ہوتی ہو۔ میرے خیال میں وہ چاہتے یہ ہیں میزائل کے دفاعی نظام کی صلاحیت پیدا ہی نہ ہو تی کہ امریکہ کو یورپ میں روایتی فوجیں رکھنی پڑیں جن پر کہیں زیادہ خر چ ہوتا ہے ۔‘‘

وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے جمعے کے روز کہا کہ وہ میزائل کے دفاعی نظام کے بارے میں روسیوں کے ساتھ مزید بات چیت کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں ہم اس طرح بات چیت کرنا چاہتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہو اور دنیا میں ہمیں جن نئے خطرات کا سامنا ہے ان کے خلاف دونوں ملکوں کو تحفظ مِل سکے۔

ماضی میں روس نے میزائل کے حملوں سے دفاع کے لیے کچھ تعاون کی پیشکش کی ہے لیکن اس نظام کی مخالفت کی ہے جو امریکی عہدے داروں نے تجویز کیا ہے ۔ تا ہم، اوباما انتظامیہ نے تہیہ کر لیا ہے کہ پولینڈ اور رومانیہ میں مزائل کے دفاعی نظام کی تنصیبات کے منصوبوں پر عمل کیا جائے گا۔

محکمۂ دفاع کے ڈپٹی انڈر سیکرٹری برائے پالیسی جیمز مِلر نے کہا ہے کہ اگلے چند برسوں کے دوران ہمارے میزائل کے دفاعی پروگرام میں اہم پیش رفت ہوگی۔ ان کے خیال میں بعض علاقوں میں خاص طور سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی میزائل کے حملوں سے دفاع کی صلاحیت اتنی اچھی نہیں ہے جتنی ہونی چاہیئے ، لیکن انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس صورتِ حال میں جلد ہی اہم تبدیلیاں آئیں گی۔

XS
SM
MD
LG