رسائی کے لنکس

'برہنہ تصاویر اسکینڈل' مزید متاثرین سامنے آ گئیں


میرین کور کی سابق خاتون اہلکار ایریکا بٹنر [دائیں] وکیل گلوریا الرڈ کے ہمراہ کھڑی ہیں

حکام کے بقول زیادہ تر تصاویر لوگوں کی طرف سے خود سے کھینچی گئیں یعنی سیلفیز تھیں اور ایسا نہیں لگتا کہ یہ کسی اور نے خفیہ طور پر بنائیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ انھیں آن لائن کیوں شیئر کیا گیا۔

امریکہ میں افواج سے تعلق رکھنے والی کم ازکم مزید 20 خواتین نے بھی کہا ہے کہ میرین کور اور دیگر عسکری شعبوں کے حاضر اور سابقہ ارکان نے ان کی تصاویر بغیر ان کی مرضی کے انٹرنیٹ پر شیئر کیں۔

یہ بات جمعہ کو بحریہ کے اعلیٰ تفتیش کار کرٹس ایونز نے صحافیوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ انھیں توقع ہے کہ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھیں گی مزید متاثرین بھی سامنے آئیں گے۔

میرین کور کے موجودہ اور سابق خواتین ارکان اور مسلح افواج کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری کی گئیں۔ ان میں صرف مردوں کے ایک پرائیوٹ فیس بک پیج 'میرینز یونائیٹڈ' بھی شامل ہے۔

اس فیس بک پیج کو ہٹا دیا گیا ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس پر جاری کی گئی تصاویر دیگر نجی پیجز پر بھی منتقل کی گئی ہوں۔

ایونز کا کہنا تھا کہ تفتیش کا دائرہ آن لائن دیگر کئی سائٹس تک بڑھا دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے کے اوائل میں کم ازکم 17 نئی سائٹس کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان پر موجود تیس ہزار تصاویر کا اندراج کیا گیا، تاہم ان میں سے کئی ایسی تھیں جو ایک سے زیادہ مرتبہ جاری کی گئیں۔

حکام کے بقول زیادہ تر تصاویر لوگوں کی طرف سے خود سے کھینچی گئیں یعنی سیلفیز تھیں اور ایسا نہیں لگتا کہ یہ کسی اور نے خفیہ طور پر بنائیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ انھیں آن لائن کیوں شیئر کیا گیا۔

حکام نے یہ معلومات نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دیں کیونکہ وہ ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

ایونز کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ملنے والی ہر شکایت کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور بحریہ دیگر عسکری اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے جب کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

ان کے بقول فیس بک اور گوگل بھی تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG