رسائی کے لنکس

’معصوم انسانوں کی جان لینا ایک بزدلانہ فعل ہے‘


​​کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی فلوریڈا شاخ نے ایک بیان کہا ہے کہ ’’مسلم برادری اپنے امریکی ہم وطنوں کے ساتھ تشدد کی ایسے بیہمانہ کارروائیوں کا جواز یا عذر پیش کرنے والے کسی بھی شخص یا تنظیم کو مسترد کرتی ہے۔‘‘

امریکہ بھر میں مسلمانوں نے امریکی تاریخ کے مہلک ترین حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔ ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ہونے والے اس حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

واشنگٹن کے قریب ایک اسلامی مرکز ’’میک سپیس‘‘ کے بانی نے وائس آف امریکہ کی افغان سروس کو بتایا کہ ’’معصوم انسانوں کی جان لینا ایک بزدلانہ فعل ہے اور ہر مسلمان اور ہر انسان کو اس کی مذمت کرنی چاہیئے۔‘‘

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نھاد عوض۔ فائل فوٹو

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نھاد عوض۔ فائل فوٹو

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی فلوریڈا شاخ نے ایک بیان کہا ہے کہ ‘‘ہم اس بھیانک حملے کی مذمت کرتے ہیں اور اس میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ اور عزیزوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ مسلم برادری اپنے امریکی ہم وطنوں کے ساتھ تشدد کی ایسے بیہمانہ کارروائیوں کا جواز یا عذر پیش کرنے والے کسی بھی شخص یا تنظیم کو مسترد کرتی ہے۔‘‘

اورلینڈو کے اسلامک سینٹر کے امام طارق رشید نے کہا ہے کہ ’’کوئی مذہب کبھی بھی تشدد کی ایسی بے رحمانہ اور بلاجواز کارروائیوں کی اجازت دے گا نہ ہی انہیں قبول کرے گا۔‘‘

اسلامک سوسائیٹی آف سنٹرل فلوریڈا نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے فیس بک صفحے پر لکھا کہ ’’ہم تشدد کی کسی بھی کارروائی کے خلاف جو ہماری برادریوں میں خوف اور تقسیم پیدا کرے، متحد ہو کر امریکیوں کے طور پر کھڑے ہیں۔‘‘

امریکن اسلام نامی ایک تنظیم کے صدر امام محمد مرسی نے کہا کہ ’’ہم اس شخص کے نظریے سے قطع نظر اس کی مذمت کرتے ہیں جس نے یہ حملہ کیا۔ غصے اور نفرت کی وجہ سے کسی کی بھی جان نہیں جانی چاہیئے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ ایک کے بعد ایک قتل عام کو روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیئے۔

’’میں دہشت گردی کے تمام واقعات کی مذمت کرتا ہوں، خصوصاً ایسے واقعات کی جو میرے مذہب کے نام پر کیے گئے ہوں۔‘‘

شدت پسندوں کا مقصد تقسیم پیدا کرنا

واشنگٹن میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نھاد عوض نے کہا کہ یہ حملہ ’’نفرت پر مبی جرم تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم کی ہمدردی ہم جنس پرست برداری کے ساتھ ہے اور انتہا پسندوں کا مقصد معاشرے میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔

’’مسلمان ہونے کی حیثیت سے، امریکی ہونے کی حیثیت سے، اب بولنے اور یہ واضح کرنے کا وقت ہے کہ ہم نفرت کے آگے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، اور ہم خوف کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔‘‘

انہوں نے حملہ آور کی داعش سے وفاداری کا ذکر کرتے ہوئے اس دہشت گرد گروہ اور اس کے حامیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آپ خدا کے سامنے کھڑے ہو کر معصوم انسانوں، ہزاروں معصوم انسانوں، مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف جرائم کا کیسے جواب دو گے؟ آپ ہماری نمائندگی نہیں کرتے۔‘‘

ملک بھر میں کئی مسلمان تنظیموں نے اپنے ارکان سے کہا ہے کہ وہ اورلینڈو میں متاثر ہونے والوں کے لیے خون عطیہ کریں۔

ہم جنس پرست برادری کے علاوہ عام لوگ بھی اس حملے کے بعد انتہائی غمزدہ ہیں اور اتوار کی رات سینکٹروں کی تعداد میں ہم جنس پرست اور دیگر افراد وائٹ ہاؤس کے سامنے اکٹھے ہوئے اور متاثرین کو ایک عارضی یادگار پر خراج تحسین پیش کیا۔

XS
SM
MD
LG