رسائی کے لنکس

امریکی مسلمان ماضی کی نسبت زیادہ مطمئن ہیں: گیلپ


بوائے اسکاؤٹ عمر فاروق، ورجینیا، امریکہ کی ایک مسجد کے باہر امریکی جھنڈے کے ساتھ۔

بوائے اسکاؤٹ عمر فاروق، ورجینیا، امریکہ کی ایک مسجد کے باہر امریکی جھنڈے کے ساتھ۔

گیلپ کی جانب سے کرائے جانے والے رائےعامہ کے ایک جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ حالیہ برسوں کے مقابلے میں امریکی مسلمان اب زیادہ مثبت سوچ رکھتے ہیں ، لیکن امریکی خارجہ پالیسی پر ان کے اعتراضات میں اضافہ ہوا ہے۔

دبئی میں قائم گیلپ کے ایک مرکز کی جانب سے منگل کو جاری کردہ یہ رپورٹ دوبرسوں پر محیط کے ایک سروے پر مبنی ہے۔

رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ60 فی صد مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں ان کے حالات بہتر ہورہے ہیں ۔ یہ تعداد 2008ء کے مقابلے میں 19 فی صد زیادہ ہے۔

جائزہ رپورٹ کے مصنفین کا کہناہے کہ مستقبل کے بارے میں امریکی مسلمانوں کی سوچ میں اس تبدیلی کی ایک ممکنہ وجہ امریکی معیشت بہتر ہونا ہے ۔

80 فی صد امریکی مسلمان صدر براک اومابا کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔

تاہم امریکی مسلمانوں کا، اس ملک میں آباد دوسرے مذہبی گروپوں کی نسبت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج پر اعتماد کم ہے۔ صرف 60 فی صد امریکی مسلمانوں نے ایف بی آئی پر اعتماد کا اظہار کیا جب کہ دوسرے مذہبی گروپوں میں یہ شرح 75 فی صد تھی۔

دوسرے کسی بھی مذہبی گروپ کے مقابلے میں امریکی مسلمانوں کی زیادہ تعداد یہ سمجھتی ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگ ایک غلطی تھی۔

گیلپ کا کہناہے کہ یہ جائزہ رپورٹ جنوری 2008ء سے 9 اپریل 2011ء کے عرصے کے دوران ان 3883 بالغ افراد کے انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جنہوں نے اپنی شاخت مسلمان کے طورپر ظاہر کی تھی۔

XS
SM
MD
LG