رسائی کے لنکس

میانمار روہنگیا سے شہریوں جیسا سلوک کرے: امریکہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

معاون وزیر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن یہ دیکھنا چاہے گا کہ اس معاملے پر "برما کے تمام رہنما" بشمول حزب مخالف کی رہنما آنگ سان سوچی بات پر کریں۔

ایک اعلیٰ امریکی سفارتکار نے روہنگیا نسل کے لوگوں سے روا رکھے جانے والے سلوک پر میانمار (برما) کو متنبہ کیا ہے۔

معاون وزیر خارجہ این شرمین نے بدھ کو بنکاک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ " روہنگیا لوگوں کو برما کے شہری ہونے جیسا سلوک کرنے کی ضرورت ہے۔"

انھوں نے ایک روز قبل انڈونیشیا میں ان پناہ گزین کیمپوں کے دورے کے بعد کہی جہاں سینکڑوں روہنگیا اور دیگر تارکین وطن عارضی طور پر مقیم ہیں۔

گزشتہ ماہ سے میانمار اور بنگلہ دیش سے ہزاروں تارکین وطن دیگر جنوب ایشیائی ممالک کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں جب کہ باور کیا جاتا ہے کہ اب بھی ہزاروں بحیرہ انڈیمان اور خلیج بنگال نامساعد اور غیر محفوظ انداز میں پھنسے ہیں۔

پیر کو صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ روہنگیا کی نقل مکانی کی ایک بڑی وجہ " وہ امتیازی سلوک کے جو میانمار میں ان سے روا رکھا جا رہا ہے۔"

معاون وزیر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن یہ دیکھنا چاہے گا کہ اس معاملے پر "برما کے تمام رہنما" بشمول حزب مخالف کی رہنما آنگ سان سوچی بات پر کریں۔

روہنگیا نسل کے مسلمانوں کو میانمار کی شہریت حاصل نہیں اور بدھ اکثریت والے اس ملک میں انھیں زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں۔ سوچی اس معاملے پر اب تک خاموش ہی رہی ہیں۔

میانمار کے رہنما اس نسلی گروپ میں تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ بنگلہ دیش سے آئے ہوئے غیر قانونی تارکین وطن ہیں جب کہ بنگلہ دیش انھیں اپنا شہری تصور نہیں کرتا۔

شرمین کا کہنا تھا تارکین وطن کے بحران میں خطے کی کسی بھی قوم کو "خاموش تماشائی" نہیں رہنا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG