رسائی کے لنکس

امریکی قومی بجٹ کی تیاری میں حائل رکاوٹیں

  • جم رینڈل
  • آمنہ خان

امریکی قومی بجٹ کی تیاری میں حائل رکاوٹیں

امریکی قومی بجٹ کی تیاری میں حائل رکاوٹیں

امریکی بجٹ کا خسارہ امریکی ایوان نمائندگان کے بعض ممبروں کی تشویش میں اضافہ کررہا ہے، جن کے مطابق خسارہ کم کرنے کےلیے حکومت کے اخراجا ت اور آمدنی میں توازن قائم کرنا ضروری ہو گا۔ انہوں نے امریکی آئین میں ترمیم کا منصوبہ پیش کیا ہے جس کے بغیر، ان کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کے قرضے کا بوجھ بھی کم نہیں ہو گا۔

اس ماہ صدر اوباما رپبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کی قیادت کے ساتھ بجٹ کے موضوع پر مذاکرات میں شامل رہے ۔

اسپیکر بینر نے جو نیا منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت حکومت کے اخراجات میں کٹوتیوں کے بدلے میں امریکی حکومت وقتی طورپر مزید رقم ادھار لے سکے گی۔ اس کے نتیجے میں چھ ماہ کے اندر اسےاپنے قرضے نہ چکا پانے کا یہی مسئلہ پھر سے درپیش ہو گا۔ یعنی ان کے مطابق یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

لیکن اس بجٹ منصوبے کے مخالفین کہتے ہیں کہ اس صورت میں حکومت کےلیے سڑکوں اور پلوں کی تعمیر جیسے بڑے تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے رقم مختص کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق امریکی حکومت میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ جنگ، قدرتی سانحوں اور حالیہ اقتصادی بحران جیسے غیر متوقع مسائل سے منسلک اخراجات بھی پورے کر سکے۔

مثال کے طور پر کسی اقتصادی بحران کے دوران بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے بے روزگاروں کی امداد کے لیے حکومت کے منصوبوں کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔لوگوں کی آمدنی میں کمی کے باعث ٹیکس کے ذریعے حکومت کو ملنے والی آمدنی بھی کم ہو جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں بجٹ کے خسارے میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ کئی برسوں سے مجموعی آمدنی میں کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا حساب کیا جائے تو امریکی حکومت کے 143 ڈالرکے موجودہ خسارے کی وجوہات واضح ہونے لگتی ہیں۔ اپنے اخراجات پورے کرنے اور بجٹ کا خسارہ کم کرنے کےلیے امریکی حکومت مزید رقم ادھار لیتی ہے جس کے نتیجے میں شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے اور اقتصادی ترقی کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے برائن ڈارلنگ کے مطابق بجٹ کا خسارہ اس لیے بڑھا ہے کیونکہ امریکی حکومت کا دائرہ بہت بڑا ہے ، اوروہ بہت مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔

لیکن واشنگٹن کے ایک دوسرے تھنک ٹینک سینٹر فار امریکن پراگریس کے مائیکل ایٹلنگر کے مطابق یہ خسارہ حکومت کے اخراجات نہیں، بلکہ سابق صدر بش کے دور میں دی گئی ٹیکس کی کٹوتیوں کا نتیجہ ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کے رپبلیکن ممبر کہتے ہیں کہ واشنگٹن کو ٹیکس بڑھانے کے بجائے اپنے اخراجات پر قابو پانا چاہیے۔ اور امریکی آئین میں ایک ایسی ترمیم کی حمایت بھی کی جارہی ہے جس کے تحت حکومت کو ہر سال اپنی آمدنی کے لحاظ سے اپنے اخراجات کا فیصلہ کرنا ہو گا۔ لیکن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے قانون کی کامیابی کا امکان کم اور نقصان کا خدشہ زیادہ ہے۔

XS
SM
MD
LG