رسائی کے لنکس

شام میں روسی فوج کی موجودگی پر امریکہ اور نیٹو کا اظہار تشویش


روس اور ایران کے وزرائے خارجہ

روس اور ایران کے وزرائے خارجہ

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس مسئلے پر اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

امریکہ اور نیٹو نے شام میں روسی فوج کی موجودگی کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایک اعلیٰ دفاعی عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ روس شام کے لیے فوجی رسد کی فضائی ترسیل کر رہا ہے جو ان کے بقول ’’غیرمفید‘‘ ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے پاس شام میں روسی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں مگر کہا کہ’’یہاں روس کے عزائم غیر واضح ہیں۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس مسئلے پر اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

’’انہوں نے شام میں روس کی فوجی سرگرمیوں یا کہہ لیں کہ فوج میں اضافے کی خبروں کے بارے میں اپنے تحفظات کو دہرایا اور بالکل واضح کیا کہ اگر یہ خبریں درست ہیں اور ان کی تصدیق ہو گئی تو اس سے شام میں مزید تشدد اور مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔‘‘

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ایرک شلوٹز نے بھی نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ان خدشات کا ذکر کیا۔

ادھر پراگ میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینس سٹولٹنبرگ نے بھی روس کی جانب سے شام میں فوجی اور جنگی طیارے تعینات کرنے پر اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا۔

’’یہ اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد نہیں دے گا۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں شام میں جنگ کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیئے۔‘‘

روسی وزارت دفاع کی ترجمان ماریا سخاروفا نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ’’روس کے فوجی ماہرین‘‘ شامی فوج کو روسی ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان کے استعمال کی تربیت دینے کے لیے شام میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس نے شام کے ساتھ اپنے تکنیکی فوجی تعاون کو کبھی خفیہ نہیں رکھا اور ’’دوطرفہ معاہدوں کے تحت طویل عرصہ سے ہتھیار اور فوجی ساز و سامان فراہم کرتا رہا ہے۔‘‘

سخاروفا نے کہا کہ شامی فوج کو روسی ساز و سامان ’’دہشتگردی سے نمٹنے کی غرض سے دیا جاتا ہے جس کا خطرہ شام اور عراق میں بہت بڑھ گیا ہے۔‘‘

بدھ کو روئٹرز نے لبنانی ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ روسی فوجیوں نے شامی فوج کی مدد کے لیے جنگی کارروائیوں میں شرکت شروع کر دی ہے۔ خبررساں ادارے نے بتایا کہ اس وقت روسیوں کی ایک ’’قلیل‘‘ تعداد ان کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔

دریں اثنا، روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’تاس‘ نے بدھ کو تہران میں روسی سفارتخانے کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا کہ ایران نے شام میں جانے والے روسی طیاروں کو ایران کی فضائی حدود میں پرواز کی اجازت دے دی ہے۔

منگل کو بلغاریہ نے روسی جہازوں کو اپنی فضائی حدود میں پرواز کی اجازت نہیں دی کیونکہ اسے ان جہازوں میں موجود سامان کی بارے میں شک تھا۔ تاہم بدھ کو بلغاریہ نے کہا کہ وہ روس کی شام کو رسد پہنچانے والی پروازوں کو اپنا فضائی اڈا استعمال کرنے کی اس صورت میں اجازت دے گا اگر ماسکو بلغاریہ کے ایئرپورٹ پر جہازوں کے سامان کے معائنے کی اجازت دے۔

XS
SM
MD
LG