رسائی کے لنکس

13 سال طویل افغان جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان


افغانستان میں غیر ملکی فوجی دستوں کی براہِ راست کارروائیوں کے اختتام کا اعلان اتوار کو کابل میں واقع اتحادی افواج کے صدر دفتر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں کیا گیا۔

امریکہ اور 'نیٹو' نے 13 برس قبل افغانستان پر حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔

امریکی اور مغربی ممالک کے فوجی اتحاد 'نیٹو' کی افغانستان میں براہِ راست فوجی کارروائیوں کے اختتام کا اعلان اتوار کو کابل میں واقع اتحادی افواج کے صدر دفتر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں اتحادی فوجی مشن 'ایساف' کے امریکی سربراہ جنرل جان کیمپ بیل نے کہا کہ اتحادی افواج کا فوجی مشن اختتام پذیر تو ضرور ہورہا ہے لیکن امریکہ اور 'نیٹو' افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ براہِ راست فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے باوجود اتحادی ممالک افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی "سرمایہ کاری" جاری رکھیں گے۔

'نیٹو' کے فوجی مشن کے خاتمے کے باضابطہ اعلان سےقبل ہی افغانستان میں تعینات غیرملکی فوجی دستوں کا انخلا شروع ہوگیا تھا جو امید ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں مکمل ہوجائے گا۔

یکم جنوری سے افغانستان میں سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داریاں افغان حکومت کے سکیورٹی ادارے سنبھال لیں گے۔

'نیٹو' کے فوجی مشن کے اختتام کے باوجود 11 ہزار امریکی فوجیوں سمیت 13500 نیٹو اہلکار بدستور افغانستان میں موجود رہیں گے لیکن ان کی ذمہ داریاں افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت اور مشاورت فراہم کرنے تک محدود ہوں گی۔

افغان جنگ کا آغاز امریکہ پر 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے چند ہفتوں بعد افغانستان پر امریکی حملے سے ہوا تھا اور یہ امریکہ کی تاریخ کی طویل اور مہنگی ترین جنگ تھی۔

امریکی حملے کے نتیجے میں افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ لیکن اتحادی افواج کی 13 سال طویل فوجی کارروائیوں کے باوجود طالبان افغانستان کے وسیع علاقے میں بدستور سرگرم ہیں اور ان کی گوریلا کارروائیوں اور حملوں کے خاتمے کا مستقبل قریب میں بھی کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔

'نیٹو' کے فوجی مشن کے عروج کے دور میں افغانستان میں ایک لاکھ 40 ہزار تک غیر ملکی فوجی تعینات رہے ہیں جن کا تعلق 50 ملکوں سے تھا۔

تیرہ سال طویل اس جنگ کے دوران لگ بھگ 3500 غیر ملکی فوجیوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے جن میں سے 2200 کا تعلق امریکہ سے تھا۔ اس دوران ہزاروں افغان شہری بھی طالبان کے حملوں اور خود نیٹو اور افغان فورسز کے فضائی اور زمین کارروائیوں کا نشانہ بنے۔

افغانستان میں غیر ملکی فوجی مشن کے خاتمے کے بعد جو سب سے بڑا سوال افغان شہریوں اور بین الاقوامی برادری کو پریشان کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا افغان فوج اور پولیس اپنے تئیں افغانستان کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال سکے گی یا یہ ملک ایک بار پھر شدت پسندی اور خانہ جنگی کی نذر ہوجائے گا؟

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب آئندہ چند ماہ میں سامنے آجائے گا۔

XS
SM
MD
LG