رسائی کے لنکس

اسٹولٹن برگ کے ساتھ بات چیت کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، امریکی صدر نے داعش سے نبردآزما ہونے کے حوالے سے نیٹو کی کوششوں کو سراہا، خاص طور پر عراق اور اردن میں مقامی افواج کو تربیت اور اعانت فراہم کرنے کے کام کی نشاندہی کی

برسلز میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے دو ہفتے بعد، امریکی صدر براک اوباما اور نیٹو کے سکریٹری جنرل ژان اسٹولٹن برگ نے اس المناک معاملے پر گفت و شنید کی اور داعش کے شدت پسند گروپ کے خلاف لڑائی پر دھیان مرتکز رکھنے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔

صدر اوباما کے بقول، ’’کوئی شک نہیں کہ دنیا ایک اہم موڑ سے گزر رہی ہے۔ عالمی سلامتی کے نظام کے حوالے سے یورپ کئی مشکل مراحل سے دوچار اور نبردآزما ہوا ہے‘‘۔

اُنھوں نے یہ بات اُس وقت کہی جب پیر کے روز اوول آفس میں نیٹو کے سکریٹری جنرل اُن کے ساتھ موجود تھے۔

اسٹولٹن برگ کے ساتھ بات چیت کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، امریکی صدر نے داعش سے نبردآزما ہونے کے حوالے سے نیٹو کی کوششوں کو سراہا، خاص طور پر عراق اور اردن میں مقامی افواج کو تربیت اور اعانت فراہم کرنے کے کام کی نشاندہی کی۔
اسٹولٹن برگ نے خطے میں دیگر ممالک کے لیے نیٹو کی حمایت کا اعادہ کیا، تاکہ دولت اسلامیہ کے خلاف کوششیں جاری رہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’نیٹو میں ہمارا ایجنڈا مقامی استعداد بڑھانے کے طریقہٴ کار پر مرکوز ہے‘‘۔

دونوں رہنماؤں نے افغانستان پر گفتگو کی، جس دوران اوباما نے اس جنوبی ایشیائی ملک میں استحکام لانے کے حوالے سے نیٹو کو ایک غیر معمولی پارٹنر قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG