رسائی کے لنکس

ایرانی حراست میں لی گئی امریکی کشتی کا کمانڈر برطرف


جنوری میں خلیج فارس میں ایرانی سمندری حدود میں داخل ہونے والے امریکی ملاحوں کو ایران نے حراست میں لے لیا تھا۔ فوئل فوٹو

جنوری میں خلیج فارس میں ایرانی سمندری حدود میں داخل ہونے والے امریکی ملاحوں کو ایران نے حراست میں لے لیا تھا۔ فوئل فوٹو

خلیج فارس میں فارسی جزیرے کے قریب ہونے والے اس واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے بعد پہلی مرتبہ کسی کا نام لے کر اس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

امریکہ کی بحریہ نے جمعرات کو کہا کہ اس نے ان دس امریکی بحریہ کے اہلکاروں کے کمانڈر کو برطرف کر دیا ہے جو جنوری میں خلیج فارس میں ایران کی سمندری حدود میں غلطی سے داخل ہو گئے تھے اور جنہیں ایران نے قلیل مدت کے لیے حراست میں لے لیا تھا۔ اس واقعے کا بین الاقوامی بحران میں تبدیل ہونے کا خدشہ تھا۔

بحریہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس کا کمانڈر ایرک ریش پر اعتماد ختم ہو گیا تھا جو دس اہلکاروں پر مشتمل ساحلی سکوارڈن کے افسر تھے۔

خلیج فارس میں فارسی جزیرے کے قریب ہونے والے اس واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے بعد پہلی مرتبہ کسی کا نام لے کر اس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں بحریہ کی فورسز کے کمانڈر نے دیگر اہلکاروں کے خلاف بھی غیر عدالتی کارروائی کی ہے مگر اس کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

ایسی انتظامی سزاؤں میں تادیبی خطوط اور زبانی تادیب شامل ہوتی ہے۔

بحریہ نے اپنی تحقیقات کی رپورٹ جاری نہیں کی مگر فروری میں فوج نے کہا تھا کہ امریکیوں کو 12 جنوری کو اس وقت روکا گیا جب ان کی کشتیوں میں سے ایک کے ڈیزل انجن میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔

اہلکاروں کے ٹیلی فون سیٹوں سے دو سمیں بھی نکال لی گئی تھیں۔

ایران کے رہبر اعلیٰ نے امریکی اہلکار پکڑنے پر بحریہ کے کمانڈروں کو تمغے بھی دیے تھے۔

ایران کے ذرائع ابلاغ میں حراست میں لیے گئے اہلکاروں کی وڈیوز دکھائی گئیں جن میں اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھے ملاحون پر پاسداران انقلاب کے اہلکار اپنے ہتھار تانے کھڑے تھے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کی اپنے ایران ہم منصب سے بات چیت کے بعد پندرہ گھنٹوں کے اندر ملاحوں کو رہا کر دیا گیا جس سے ایک ایسے وقت سفارتی بحران سے بچت ہوگئی جب گزشتہ سال طے پانے والے ایران جوہری معاہدے پر عملدرآمد قریب تھا جس کے تحت ایران پر عائد عالمی پابندیاں ہٹا لی گئیں۔

امریکی حکام نے کمانڈر ریش کی برطرفی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ وہ مؤثر قیادت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا تھا جس سے یونٹ میں نگرانی کا فقدان، لاپرواہی اور میعار برقرار رکھنے میں ناکامی پیدا ہوئی۔

اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ اہلکاروں کی جلد رہائی سے سفارت کاری کی طاقت اور ایران سے نئے تعلقات کی امید کا اظہار ہوتا ہے۔

تاہم کانگریس کے ریپبلکن ارکان ایران سے جوہری معاہدے پر تنقید کرتے ہیں اور کچھ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی طرف سے بحریہ کے کی حراست سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے دل میں امریکہ کے لیے کتنی کم عزت ہے۔

XS
SM
MD
LG