رسائی کے لنکس

اس پر اجیکٹ کے لیے حکومت کو تقریباً 700 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے اور نئے جنگی جہاز بنانے پر لگ بھگ 30 سال کا عرصہ لگے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ درجنوں نئے بحری جنگی جہاز بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ منصوبہ زمانہ امن میں امریکی بحریہ میں توسیع کے سب سے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے۔

لیکن جہاز بنانے والی کمپنیوں، مزور وں کی تنظیموں ، ان امور سے واقفیت رکھنے والوں کے انٹرویوز اور اندرونی دستاویزات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس منصوبے کی راہ میں کئ بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔

اس پر اجیکٹ کے لیے حکومت کو تقریباً 700 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے اور نئے جنگی جہاز بنانے پر لگ بھگ 30 سال کا عرصہ لگے گا۔ اس دوران شپ یارڈ کے ہزاروں نئے ہنر مند کارکن بھرتی کرنے پڑیں گے اور انہیں تربیت دینی ہوگی ، کیونکہ بحری جہازبنانے کے کام میں کمی کے باعث اس شعبے کے ماہرین زیادہ تعداد میں دستیاب نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ چین اور روس کی بڑھتی ہوئی قوت کے پیش نظر یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی فوج کو دنیا کی طاقت ور فوج بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کے منصوبوں میں بحری جہازوں کی تعداد 275 سے بڑھا کر 350 کرنا بھی شامل ہے۔

تااہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ امریکی فوجی بیڑے کو کب تک توسیع دینے عزم رکھتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی نیوی نے وزیر دفاع جم میٹس کو ایک رپورٹ بھیجی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک کا صنعتی ڈھانچہ نئے جہازبنانے کے منصوبوں میں کس قدر مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔تاہم اس سلسلے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

خبررساں ادارے نے اس حوالے سے جن ماہرین سے انٹرویوز کیے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے مارکیٹ میں کافی تعداد میں ہنر مند افراد موجود نہیں اور اسی طرح شپ یارڈزاور جوہری توانائی کو جہازوں کے لیے ایندھن کے طورپر استعمال کا فی الحال وسیع بندوبست موجود نہیں ہے۔ جہاز بنانے کے اس ابتدائی ڈھانچے کی تیاری پر کئی برس لگ سکتے ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے لیے کانگریس سے بڑے پیمانے پر رقوم کی منظوری لینا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔

دو بڑی امریکی جہاز ساز کمپنیوں جنرل ڈاینامکس اور ہٹنگٹن انڈسٹریز نے روئیٹرز کو بتایا کہ وہ پہلے سے موجود آرڈرز کے لیے اس سال 6 ہزار کارکن بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ جنرل ڈائنامکس کا کہنا ہے کہ سن 2030 تک وہ اپنے کارکنوں کی تعداد 15ہزار کی موجودہ سطح سے بڑھا کر 20 ہزار تک لانا چاہتی ہے۔

کانگریس کے بجٹ سے متعلق ایک عہدے دار نے بتایا کہ نیوی کے لیے 350 جہازوں پر لاگت کا تخمینہ 690 ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور اس پر30 سال لگ سکتے ہیں یعنی نیوی کو اس منصوبے کے لیے ہر سال 23 ارب ڈالر دینا ہوں گےجو نیوی کے اس سلسلے کے موجودہ بجٹ سے 60 فی صد زیادہ ہے۔

مسلح افواج کی سینٹ کی کمیٹی کے چیئر میں سینیٹر جان مک کین کہتے ہیں کہ وہ نیوی کی قوت میں اضافے کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کے لیے بلینک چیک بھی نہیں دیا جاسکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG