رسائی کے لنکس

امریکی بحریہ کا بحیرہ جنوبی چین میں چینی پروازوں کے خلاف انتباہ


فضا سے لی گئی اس تصویر میں چین کی طرف سے میسچیف ریف پر بحالی کی سرگرمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ فائل فوٹو

فضا سے لی گئی اس تصویر میں چین کی طرف سے میسچیف ریف پر بحالی کی سرگرمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ فائل فوٹو

امریکی بحریہ کے ساتویں فلیٹ کے کمانڈر وائس ایڈمرل جوزف آکوئن نے سنگاپور میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ چین کی طرف سے ان جزائر پر سے جنگی جہازوں کی پرواز کی کوشش سے امریکہ علاقے میں اپنی پروازیں ختم نہیں کرے گا۔

امریکی بحریہ کے ایک سینیئر افسر کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ جنوبی چین میں بنائے گئے مصنوعی جزائر سے چین نے جنگی جہازوں کی پروازیں شروع کیں تو اس سے عدم استحکام پیدا ہو گا۔

امریکی بحریہ کے ساتویں فلیٹ کے کمانڈر وائس ایڈمرل جوزف آکوئن نے پیر کو سنگاپور میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ چین کی طرف سے ان جزائر پر سے جنگی جہازوں کی پرواز کی کوشش سے امریکہ علاقے میں اپنی پروازیں ختم نہیں کرے گا۔

’’جہاں بھی عالمی قانون اجازت دے گا ہم پروازیں کریں گے اور بحری جہاز بھیجیں گے اور اس میں علاقے کی فضائی حدود بھی شامل ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم یہاں اشتعال انگیزی نہیں کر رہے۔ ہم عالمی قانون کے تحت صرف اپنی آزادی اور حقوق استعمال کر رہے ہیں اور ہم ایسا کرتے رہیں گے۔ یہ سب ملکوں کے مفاد میں ہے قطع نظر ان کے حجم یا طاقت کے۔‘‘

آکوئن نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ چین سپارٹلی جزائر پر جنگی جہازوں کی پروازیں کب شروع کرے گا جہاں اس نے مصنوعی جزائر اور تین ہزار میٹر لمبا رن وے تعمیر کیا ہے۔

جب ان سے چینی جیٹ طیاروں کے گشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آکوئن نے کہا کہ ’’یہ ایک عدم استحکام پیدا کرنے والی غیر یقینی (صورتحال) ہے۔‘‘ انہوں نے چین پر زور دیا کہ وہ بحیرہ جنوبی چین میں اپنے عزائم واضح کرے جس سے ان کے بقول علاقائی ممالک کی ’’تشویش‘‘ کم ہو گی۔

آکوئن کا تبصرہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کیلیفورنیا میں صدر براک اوباما جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے دو روزہ سربراہ اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ اس اجلاس میں بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ بھی زیر غور آئے گا۔

بحیرہ جنوبی چین کے بیشتر حصے پر چین کا دعویٰ ہے جبکہ علاقے کے دیگر ممالک بھی کچھ حصوں پر ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں جن میں فلپائن، تائیوان اور ویتنام شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG