رسائی کے لنکس

امریکہ و مصر کے درمیان قرض معافی کے معاہدے پر اتفاق

  • واشنگٹن

امریکی اور مصری حکام اس مجوزہ معاہدے کے مسودے پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت امریکہ مصر کو قرضے کی مد میں دیے جانے والے ایک ارب ڈالرز معاف کردے گا۔

امریکی اور مصری حکام اس مجوزہ معاہدے کے مسودے پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت امریکہ مصر کو قرضے کی مد میں دیے جانے والے ایک ارب ڈالرز معاف کردے گا۔

قرض معافی کا یہ مجوزہ معاہدہ مصر کی بے حال معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کرنے کے لیے کی جانے والی امریکی اور بین الاقوامی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

یاد رہے کہ مصر کے ذمے واجب الادا امریکی قرض کا حجم تین ارب ڈالرز سے زائد ہے۔

اطلاعات کے مطابق سینئر امریکی سفارت کاروں کے ایک وفد نے گزشتہ ہفتے قاہرہ کادورہ کرکے مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دی تھی جس کے بعد پیر کو بعض امریکی سفارت کاروں کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کا حتمی اعلان رواں ماہ کے اختتام پر متوقع ہے۔

مصر کی داخلی سیاسی صورتِ حال اور ملک کی نئی اسلام پسند حکومت کے ارادوں کے بارے میں امریکی انتظامیہ کے تحفظات کے باعث مجوزہ معاہدہ پہلے ہی خاصی تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔

معاہدے پر اتفاقِ رائے کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے امریکہ کے 40 سے زائد کاروباری اداروں کے نمائندگان کا ایک وفد مصر میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کے لیے قاہرہ پہنچ رہا ہے۔

واضح رہے کہ اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے مصر کے صدر محمد مرسی پہلے ہی روزگار کے نئے مواقع کی فراہمی اور ملکی معیشت کی بحالی کو اپنی اولین ترجیح قرار دے چکے ہیں جو 2011ء کےانقلاب کے بعد رونما ہونے والے غیر یقینی حالات کے باعث تاحال غیر مستحکم ہے۔

دو ہفتے قبل مصری صدر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مصر کو 8ء4 ارب ڈالر قرض دینے کی درخواست بھی کی تھی۔ مصری معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی غرض سے سعودی عرب اور قطر نے قاہرہ کی نئی حکومت کو ہنگامی امداد فراہم کی ہے جب کہ چین نے بھی 20 کروڑ ڈالر قرض دینے کی پیش کش کی ہے۔
XS
SM
MD
LG