رسائی کے لنکس

مسجد کا تنازعہ امریکہ میں اسلام کے متعلق بحث میں بدل چکا ہے: امام فیصل


ایک مسلم گروپ کے لیڈر جو نیو یارک میں اسلامی مرکز تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ سابق ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قریب اسلامی مرکز کی تعمیر کے بارے میں تنازعہ ایک سنجیدہ بحث میں تبدیل چکا ہے۔

امام فیصل عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ اب وسیع تر بحث امریکہ میں اسلام کے بارے میں چھڑ گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ انکے پسندیدہ مذہب اور محبوب وطن یعنی امریکہ کے مابین تعلقات کا معاملہ ہے۔

‘کونسل آن فارن ریلیشنز’ میں ایک گروپ سے خطاب میں امام فیصل نے کہا کہ یہ بات پریشانی کا باعث ہے کہ مدِ مقابل دھڑوں نے مسجد کا معاملہ ، اُن کے بقول، امریکہ میں نومبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل تند و تیز سیاسی بحث میں بدل چکا ہے۔

پیر کے دِن جاری ہونے والے ایک عوامی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ نیو یارک مسجد کے معاملے پر امریکی لوگ شدید احساسات رکھتے ہیں۔ جائزے کے مطابق امریکی ووٹروں کا 70فی صد حصہ محسوس کرتا ہے کہ مسلمانوں کو 2001ء حملوں کے مقام کے قریب ثقافتی مرکز تعمیر کرنے کا حق حاصل ہے ، تاہم،ساتھی ہی اُسی گروپ کے 63فی صد لوگوں کی یہ رائے ہے کہ ایسا کرنا غلط ہوگا۔

گذشتہ ہفتے کیونی پیک یونیورسٹی کی طرف سے کرائے گئے قومی جائزے کے دوران اندازاً 1900افراد کو انٹرویو کیا گیا۔

پیر کے روز نیویارک میں اپنے خطاب میں امام فیصل نے کہا کہ اصل مذہبی جنگ جسے لڑا جانا چاہیئے وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سارے مذاہب میں میانہ روی پر عمل پیرا لوگوں کو کسی بھی عقیدے میں شدت پسندی رکھنے والوں کی لازمی طور پر مخالفت کرنی چاہیئے۔

امام فیصل نے مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے قریب آکر شدت پسندوں سے نبردآزما ہونے کے لیے اتحاد تشکیل دیں۔

بین المذاہب تعلقات کے بارے میں صدر براک اوباما کے مشیر، اِیبو پٹیل نے اتوار کو امریکی ٹیلی ویژن ‘اے بی سی ’کے

‘ دِس ویک ’ پروگرام میں بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اشتراکِ عمل پر کاربند طاقتیں عدم رواداری کی قوتوں پر حاوی آجائیں گی اور اسلامک سینٹر کے بارے میں تنازعہ بہت جلد ختم ہوجائے گا۔

‘ڈَوو ورلڈ آؤٹ ریچ سینٹر ’ کے فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ایک چھوٹے سےگروہ کو اِس ماہ اُس وقت دنیا بھر کی مذمت کا سامنا کرنا پڑا جب اُس کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا کہ وہ 11ستمبر 2001ء کے امریکہ پر دہشت گرد حملوں کی برسی کے موقعے پرقرآن کے نسخے نذرِ آتش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے فلوریڈا چرچ کے لیڈر ، ٹیری جونز نے کہا کہ وہ اور اُن کے پیروکاروں نے اِس منصوبے کو موقوف کردیا ہے۔ امام فیصل سے ملنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے، ٹیری جونز نیو یارک پہنچے۔ اتوار کو نامہ نگاروں سےکی گئی علیحدہ بات چیت میں امام فیصل نے سوال کیا کہ کسی کی مقدس کتاب کو جلانے یا جلانے کی کوشش کرکے کس طرح ا سے بین المذاہب مکالمے کا نام دیا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG