رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: ایران خاموشی کے ساتھ امریکہ کے خلاف جنگ میں مصروف رہا ہے

  • صلاح احمد

امریکی اخبارات سے: ایران خاموشی کے ساتھ امریکہ کے خلاف جنگ میں مصروف رہا ہے

امریکی اخبارات سے: ایران خاموشی کے ساتھ امریکہ کے خلاف جنگ میں مصروف رہا ہے

امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر کو قتل کرنے کی ایرانی سازش کے طشت از بام ہونے پر اخبار’ شکاگو ٹربیون‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ سالہا سال سے ایران خاموشی کے ساتھ امریکہ کے خلاف ایک جنگ میں مصروف رہا ہے۔ اور، اُس نے امریکہ کے دشمنوں کا ساتھ دیا ہے، اُن کی ہتھیاربندی کی ہے۔ اور، جیسا کہ اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے، وفاقی عہدے داروں نے اُن افراد کی سازش ناکام بنادی ہے جِن کا براہِ راست رابطہ ایرانی حکومت سے تھا، اور جِن کے ذمے واشنگٹن کے ایک ریستوران میں بم نصب کرکے امریکہ میں سعودی سفیر کو ہلاک کرنا تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ اِس ہولناک خبر سے پہلے ایرانی اشتعال انگیزی میں عرصہٴ دراز سے آہستہ آہستہ تیزی آتی گئی ہے۔

’شکاگو ٹربیون‘ کہتا ہے کہ ایرانی فوج کی اہم شاخ، پاسدارانِ انقلاب نے عراق اور افغانستان میں اپنے اتحادیوں کی ہتھیاربندی کی ہے تاکہ وہ امریکی فوجوں کو نشانہ بنا سکیں۔ ایران کے فراہم کردہ ہتھیاروں سے امریکی فوجی ہلاک کیے گئے ہیں۔ ایران کا القاعدہ کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ ہے اور اُس نے إِس دہشت گرد تنظیم کو اپنی سرزمین کو نقدی ہتھیاروں اور لشکریوں کی ترسیل کے لیے ہتھیار کی اجازت دی ہے، تاکہ پاکستان اور افغانستان میں وہ اپنی سرگرمی جاری رکھ سکے۔ ایران کی یہ جنگ عرصے سے خاموش تھی، لیکن یہ جنگ اب خاموش نہیں رہی۔ ایرک ہولڈر نے اِس سازش کو ایرانی حکومت کے بعض عناصر کی طرف سے بین الاقوامی سازش قرار دیا ہے۔

منصور ارباب سیر اور غلام شکوری نامی ملزمان کا تعلق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ’القدس فورس‘ سے تھا۔ ارباب سیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ شکوری ابھی مفرور ہے۔

اخبار کہتا ہےکہ ایران سرکار ی طور پر دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے اور یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ ایرانی لیڈر کس حد تک اِس کوشش میں ملوث تھے جِس کا مقصد امریکہ کی سرزمین پر ایک دہشت گردحملہ کرکے ایک امریکی اتحادی کو نشانہ بنانا اور غالباً امریکی جانوں سے بھی کھیلنا تھا۔

کیلی فورنیا کے اخبار ’سیکرامنٹو بی‘ Sacramento Beeایک اداریے میں کہتا ہے کہ ایک عشرے سے واشنگٹن میں اِمی گریشن (ترک وطن) سے متعلق قانون کے بارے میں جو تعطل موجود ہے اُس کی وجہ سے ریاستی اور مقامی سطح پر امی گریشن سے متعلق زیادہ سنگین قوانین اور آرڈنینسوں کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ حالانکہ، امی گریشن کا شعبہ، آئین کی رُو سے، واضح طور پر وفاقی حکومت کی قطعی ذمہ داری ہے اور پچھلے سال ریاست اری زونا نے امی گریشن کے جو کڑے قانون نافذ کیے تھے اور پھر الاباما نے بھی اس سے بھی جو زیادہ کڑا قانون نافذ کیا تھا ، ایک وفاقی جج نے بجا طور پر اُن کی بعض شقوں کو کالعدم قرار دیا ہے۔

اِس کڑے قانون کی وجہ سے قانونی طور پر موجود تارکینِ وطن بلکہ شہریوں کو نکالا جارہا ہے۔

غیر قانونی تارکینِ وطن کے جو بچے یہاں پیدا ہوتے ہیں وہ آئین کے مطابق امریکی شہری ہیں، لیکن وہ ڈر کے مارے سکول نہیں جاتے۔ مکانوں کی تعمیر کرنے والے مزدور، کاشت کار، ہوٹلوں میں صفائی کرنے والے اور ریستورانوں میں کام کرنے والے جِن کی اِس ملک میں موجودگی قانونی طور پر جائز ہے ڈر کے مارے بھاگ رہے ہیں۔ اُنھیں شاید ڈر ہے کہ اُن کے بعض افراد خانہ یا دوستوں کے پاس صحیح کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے اُنھیں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

اخبار کہتا ہے کہ جارجیا میں بھی اِسی قسم کے قانون کی منظوری دی گئی ہے جِن کی وجہ سے بہت سے تارکینِ وطن ڈر کے مارے بھاگ گئے ہیں اور جِس کی وجہ سے فصلیں کھیتوں میں پڑی سڑ رہی ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اندریں حالات، کانگریس اور صدر براک اوباما پر لازم آتا ہے کہ وہ امی گریشن کے قانون میں اصلاح کریں تاکہ آئندہ تارکینِ وطن کی جو ضرورت ہوگی اُسے پورا کیا جائے۔

’سیٹیل ٹائمز‘ میں کالم نگار Ruth Marcusرقمطراز ہیں کہ صدر اوباما کو پہاڑ جیسے انتخابی کالج کا جو چیلنج درپیش ہے وہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ اور ’بلوم برگ‘ کے اِس استصواب کے اس ایک واحد سوال میں سمیٹا گیا ہے کہ آیا کہ اگر 2012ء میں ایک ریپبلیکن صدر منتخب ہوتا ہے تو کیا معیشت بہتر ہوگی یا بدتر۔ اِس کے جو جواب آئے ہیں اُن کے تین دلچسپ پہلو ہیں۔ ایک تو مجموعی نتیجہ، ڈیموکریٹ ووٹروں کے اندر اختلاف اور خودمختار اور آزاد ووٹروں کا مشکوک رویہ۔

بنیادی سوال پر تقریباً نصف کا خیال ہے کہ صدر ڈیموکریٹ بنے یا ریپبلیکن، معیشت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ إِس انتخاب میں کلیدی کردار آزاد ووٹروں کا ہوگا جو مجموعی ووٹروں کا ایک تہائی ہے۔ اِس استصواب میں اُن میں سے 55فی صد کا کہنا تھا کہ اگر ریپبلیکن صدر آتا ہے پھر بھی معیشت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

2008ء میں آزاد امیدواروں نے جان مکین کے لیے 44فی صد کے مقابلے میں 46فی صد کے تناسب سے براک اوباما کو ووٹ دیے تھے۔ اب Pewریسرچ سینٹر کےایک استصواب کے مطابق آزاد ووٹروں میں سے اوباماکے حق میں صرف 41فی صد ہیں جبکہ ر پبلیکن صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں اب تک سبقت لے جانے والے امیدوار مِٹ رامنی کے حق میں 54 فی صد ہیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG