رسائی کے لنکس

طالبان کے ساتھ جنگ اور گفت و شنید کی حکمتِ عملی

  • صلاح احمد

طالبان کے ساتھ جنگ اور گفت و شنید کی حکمتِ عملی

طالبان کے ساتھ جنگ اور گفت و شنید کی حکمتِ عملی

امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ترجیح بات چیت اور مذاکرات ہیں، جب کہ امریکہ جِس پالیسی پر عمل پیرا ہے اُس میں جنگ اور مذاکرات، دونوں شامل ہیں: نیو یارک ٹائمز

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کے دورہٴ پاکستان کے موقع پر ’نیو یارک ٹائمز‘ نے ایک تفصیلی رپورٹ میں پاک امریکی تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانیوں کو امریکہ کی جنگ اور گفت و شنید کی اُس حکمتِ عملی پر حیرت ہے جِس کے تحت امریکی فوجیں افغانستان میں طالبان کو جان سے مارنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور دوسری طرف، امریکی سفارت کاروں کو اِنہی طالبان کے ساتھ جو سمجھوتے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، بات چیت کرنے کی جُستجو ہے۔

اخبار نے واشنگٹن میں سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان اس بات کی وضاحت چاہتا ہے کہ آیا افغانستان جِس عبوری دور سے گزر رہا ہے اُس سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے پاس واحد یا متعدد متضاد پالیسیاں ہیں۔

ملیحہ لودھی کے بقول، پاکستان کی ترجیح بات چیت اور مذاکرات ہیں جب کہ امریکہ جِس پالیسی پر عمل پیرا ہے اُس میں جنگ اور مذاکرات دونوں شامل ہیں۔

اخبار کا خیال ہے کہ پاکستان کا طرزِ عمل خودسرانہ ہے، جِس کے ثبوت میں اخبار نے پاکستانی پارلیمنٹ کی دو ڈیفنس کمیٹیوں کے ارکان کے ساتھ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی کی ملاقات کا ذکر کیا ہے، اور جِس میں جنرل کیانی نے کہا تھا کہ امریکہ چاہے تو وہ فوجی امداد روک سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کی فوج اِس کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے۔ جب کہ غیر فوجی امریکی امداد اِس قدر قلیل ہے کہ اس پر پریشان ہونا فضول ہے۔

جنرل کیانی نے کمیٹیوں کو بتایا کہ 2001ء میں دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک پاکستان کے تین ہزار سے زیادہ فوجی ملک کے اندر طالبان کے ساتھ لڑائی میں مارے گئےہیں۔ اُن میں سے 16سپاہیوں کے ساتھ ایک افسر بھی مارا گیا۔

کمیٹی کے ایک رکن طارق عظیم نے جنرل کیانی سے پوچھا تھا کہ آیا وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر بم پھینکے گایا اُن پر حملہ کرے گا، جیسے ویت نام کی جنگ کے دوران لاؤس اور کمبوڈیا پر بمباری کی گئی تھی، تو بقول سنیٹر طارق عظیم، جنرل کیانی نے کہا تھا کہ ایسا کرنے سے پہلے امریکہ کو دس مرتبہ سوچنا پڑے گا، کیونکہ پاکستان، بہرحال ایک ایٹمی طاقت ہے، افغانستان اور عراق کی طرح کوئی کمزور ملک نہیں۔

امریکی سنیٹ میں ارکان کی اکثریت نے حال ہی میں صدر اوباما کے روزگار کے ایکٹ کو آگے بڑھانے کے لیے جو رائے دی تھی اُس پر اخبار ’لاس ویگس سن‘ میں کالم نگار Shaun Donavanکا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کا مقصد فوری طور سے لگ بھگ 20لاکھ امریکیوں کو پھر سے روزگار فراہم کرنا تھا، لیکن بدقسمتی سے ارکان کی اقلیت نے مل کر اس بِل کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ باوجود یہ کہ اِس کو ڈیموکریٹک اور ری پبلکن، دونوں ارکان کی حمایت حاصل تھی۔

کالم نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ بھر میں بے شمار بے روزگار ہیں اور خود نیواڈا ریاست میں اتنے سارے خاندان روزی کی تلاش میں ہیں اور اُنھیں اِس صورت حال کو قبول نہیں کرنا چاہیئے اور نا ہی صدر اوباما کو اسے قبول کرنا چاہیئے۔

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ روزگار سے متعلق اِس ایکٹ کا ایک نہایت ہی نرالا جُزو پراجیکٹ ری بلڈ ہے جسے اگر کانگریس منظور کرے تو اس کے نتیجے میں نیواڈا کے تعمیرات سے منسلک مزدوروں کو کام ملے گا، مکانوں، کاروباری اداروں اور بستیوں کی تعمیرِ نو ہوگی اور نجی سرمایہ کاری اور پبلک اور پرائیویٹ تعاون کو جِلا ملے گی۔

اخبار کہتا ہے کہ صدر اوباما کے ایکٹ کا مقصد روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنا اور لوگوں کی جیبوں میں مزید پیسہ ڈالنا ہے تاکہ معیشت آگے بڑھے، اِسی لیے یہ وقت ہے جب کانگریس کو قدم اُٹھانا چاہیئے۔

اخبار ’فلاڈیلفیا انکوائرر‘ نے وال سٹریٹ قبضہ تحریک کو ذرائعِ ابلاغ کے لیے ایک معمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معمہ خاص طور پر اُن صحافیوں کے لیےہے جو انٹرنیٹ کی طاقت سے ناآشنا ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اِس تحریک کے مظاہرین قومی سیاست میں اپنے آپ کو ایک فی صد کے مقابلے میں 99فی صد قرار دیتے ہیں اور جو قوم کی طویل اقتصادی مشکلات کے لیے دولتمندوں کے اوپری اور چھوٹے سے طبقے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

اُن کا ماننا ہے کہ مسئلہ حکومت کا ہے جسے پیسے کے زور سے بدعنواں کردیا گیا ہے لیکن اِس کا واحد حل ہے کہ حکومت ایسی ہو کہ وہ پیسہ نہ لے تاکہ وہ بدعنوانی سے پاک ہو۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر اس تحریک کو عامة الناس کی قبولیت حاصل ہوجائے تو پھر کانگریس اور صدر مجبور ہوجائیں گے کہ وہ اُس کی تنقید کا نوٹس لیں اور حل پیش کریں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG