رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے

  • صلاح احمد

’اسامہ بن لادن کا خاندان ابھی پاکستان سے نہیں جاسکتا‘ کے عنوان سے اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اُن کی تین بیوائیں اور 16بچے آئی ایس آئی کی تحویل میں ہیں۔

اُنھیں پاکستان میں رکھنے کے احکامات سپریم کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں قائم ایک چار رُکنی کمیشن کی اُس تحقیقات کے آغاز پر جاری کیے گئے جو فوجی چھاؤنی والے شہر ایبٹ آباد میں بن لادن کی کمین گاہ پر امریکی فوج کے خفیہ حملے کی ہو رہی ہے، پاکستان کو دو مئی کو اِس حملے کی پہلے سے اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

یہ کمیشن تحقیقات کر رہا ہے کہ فوج پاکستانی سرزمین پر امریکی فوجیوں کی موجودگی کا سراغ لگانے میں کیوں ناکام رہی اور اِس بات کی بھی کہ دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد کیونکر اِس انتہائی اعلیٰ سکیورٹی والے علاقے میں چھُپا رہا اور انٹیل جینس اداروں کو اِس کا پتہ نہ چلا۔

اِس کمیشن نے وزارتِ داخلہ اور آئی ایس آئی کو ہدایت کر دی ہے کہ بن لادن کے خاندان کو کمیشن کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔ کمیشن ملک کے اعلیٰ فوجی اور سِول عہدے داروں کو پوچھ گچھ کےلیے طلب کر رہا ہے۔

حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ سے عوام کو مطلع کیا جائے گا، لیکن بہت سے تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ فوج اور انٹلی جینس اداروں کے تعاون کے بغیر کمیشن کو کچھ حاصل ہوگا۔

’سی آئی اے کو بہت سی باتوں کا جواب دینا ہے‘، اِس عنوان سے اخبار ’لاس انجیلس ٹائمز‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ سی آئی اے میں اذیت رسانی کے استعمال کی تحقیقات کرنے والے ایک وکیلِ استغاثہ نے یہ سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ پچھلے دس سال کے دوران 100قیدیوں کی جو پوچھ گچھ کی گئی تھی اُس کی مزید تحقیقات نہ کی جائے جِس کے بعد اب یہ بات یقینی ہے کہ اُن لوگوں سے معلومات حاصل کرنے کے لیے کیسے، کب اور کس کے ہاتھوں پوچھ گچھ کے زیادہ سنگین طریقے استعمال کیے گئے تھے، اُس کا کبھی پتہ نہیں چل سکے گا۔

البتہ، اِس وکیل جان دُرہم نے دو ایسے کیسوں کو تحقیقات جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے جِن میں دو قیدی حراست کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

اخبار کہتا ہے کہ اوباما انتظامیہ کے فیصلے کے مطابق اُن کیسوں کی تحقیقات نہیں ہوسکتی جِن میں پوچھ پاچھ کرنے والوں نے نیک نیتی کے ساتھ پوچھ گچھ کے رہنما اصول کے دائرہٴ کار میں رہتے ہوئے اپنا فرض ادا کیا۔

لیکن اخبات کا سوال ہے کہ اگر احکامات کی تعمیل کرنے والے سی آئی اے کے ملازمین کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی تو اُن وکیلوں کو جواب دہ بنانا چاہیئے جنھوں نے وہ غیر اخلاقی اور مذموم قانونی آراٴ جاری کی تھیں۔ لیکن، محکمہٴ انصاف بدقسمتی سے اُنھیں پہلے ہی معاف کرچکا ہے ۔ اور جہاں تک اِن وکلا سے مشورہ حاصل کرنے والے سیاست دانوں کا تعلق ہے، اُن میں سے کسی کے خلاف نہ تو مقدمہ دائر ہوا اور نہ ہی کوئی تحقیقات ہوئی۔ چناچہ اِن گھناؤنی حرکتوں کے لیے کسی کو واجب احتساب نہیں گردانا جائے گا۔

اخبار کی نظر میں ایک ایسے ملک کے لیے یہ شرم کی بات ہوگی جو قیدیوں کے ساتھ قاعدے کا اور رحمدلانہ برتاؤ کرنے کا علمبردار ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والی زیادتیوں کے سلسلے میں اخبار کو صدر اوباما کی اِس بات سے اتفاق ہے کہ ہمیں ماضی کے بجائے مستبقل کی طرف دیکھنا چاہیئے۔ لیکن اخبار کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرف اِس حد تک جانا ضروری ہے تاکہ ایسی زیادتیاں دوبارہ نہ ہوں۔

’ہیوسٹن کرانیکل‘کے مطابق شمسی توانائی امریکہ کے اِس شعبے میں سب سے تیز پھیلنے والی صنعت بن گئی ہے اور یہ اِس وقت چھ ارب ڈالر کی صنعت بن چکی ہے۔ 2009ء اور 2010ء کے درمیان اِس میں 67فی صد اضافہ ہوا جِس سے روزگار کے دسیوں ہزاروں مواقع کے علاوہ تجارتی ادارے قائم ہوئے۔ اِس صنعت میں اِس وقت ایک لاکھ امریکی کام کر رہے ہیں اور 2016ء تک یہ تعداد پانچ لاکھ تک بڑھ جائے گی۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG