رسائی کے لنکس

کمیٹی کے سربراہ، میٹ سلمون نے چین کو ’شمالی کوریا کا 800 پاؤنڈ وزنی گوریلہ‘ قرار دیا، جو شمالی کوریا کو خوراک اور توانائی کی 80 فی صد رسد اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری فراہم کرتا ہے

ماہرین کے ایک پینل نے بدھ کو امریکی کانگریس کی کمیٹی کی سماعت میں بتایا ہے کہ شمالی کوریا کے فوجی عزائم کو روکنے کی کامیاب کنجی چین کے ہاتھ میں ہے، ’جو ہی اِس عیار ملک کو اُس کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے باز رکھ سکتا ہے‘۔

امریکی قانون سازوں نے اس بات سے اتفاق کیا۔ ایوانِ نمائندگان کے رُکن، ایلن لوونتھل نے اِس بات کی نشاندہی کی کہ شمالی کوریا کے رہنما، کِم جونگ اُن کی حکومت کے عدم استحکام کے معاملے پر ’اصل تشویش چین سے کی جانے چاہیئے‘۔

کمیٹی کے سربراہ، میٹ سلمون نے چین کو ’شمالی کوریا کا 800 پاؤنڈ وزنی گوریلہ‘ قرار دیا، جو شمالی کوریا کو خوراک اور توانائی کی 80 فی صد رسد اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری فراہم کرتا ہے۔

ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے تجزیہ کار، بروس کِلنگر نے کہا ہے کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ (شمالی کوریا کے خلاف) موجودہ تعزیرات پر عمل درآمد کا ذمہ دار چین کو بنایا جائے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے منگل کے روز شمالی کوریا کے خلاف تعزیرات کو وسعت دینے کے بِل کی منظوری تقریبا ًمتفقہ طور پر دی۔

شمالی کوریا کی طرف سے حالیہ جوہری تجربے کے حوالے سے بدھ کو جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو متنبہ کیا کہ ’امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی جانب سے نئے اقدامات کے نتیجے میں اُس ناقابلِ بیان نقصان پہنچ سکتا ہے، اور چین پر بھی زور دیا کہ اس دھتکارے ہوئے ہمسائے پر کنٹرول کرنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے‘۔

بونی گلاسر کا تعلق واشنگٹن میں قائم ’سینٹر فور اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ سے ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ چین کی فوج، کاروباری ادارے اور سیاسی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ارکان شمالی کوریا کو ایک مختلف زاوئے سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن، جو عنصر اہمیت رکھتا ہے وہ اولیت کے درجے پر ہے۔

گلاسر کے بقول، ’(چینی صدر اور کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ) ژی جِن پِنگ ناطق اور جراٴتمند رہنما ہیں جو چین کی فوج میں اختلاف رائے کو رد کرسکتے ہیں اور پارٹی کو شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات تبدیل کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں‘۔

تاہم، ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی صدر براک اوباما نے شمالی کوریا کو بُری طرح سے کیوں نہیں لتاڑا۔

’سینٹر فور اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ میں کوریا کے لیے سربراہ، وکٹر چا نے کہا ہے کہ ’جس رفتار سے ہم اس معاملے پر گامزن ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ذمہ اب دوسری انتظامیہ کے حوالے ہوجائے گا، اور یہ کہ یہ مسئلہ ممکنہ طور پر بدتر نوعیت کا معاملہ بن چکا ہے‘۔

XS
SM
MD
LG