رسائی کے لنکس

امریکہ: تین مسلم نوجوانوں کے قتل کا ملزم گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مقتولین کے لواحقین نے پولیس کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نوجوانوں کو "مذہبی منافرت" کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے۔

امریکہ میں پولیس نے ایک شخص کو یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا میں ایک مسلمان نوجوان، اس کی اہلیہ اور سالی کو گولی مار کر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

چیپل ہل کی پولیس نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ گرفتار کیے گئے شخص کا نام کریگ اسٹیفن ہکس ہے جبکہ اس کی عمر 46 سال بتائی گئی ہے۔

پولیس کے بقول اسے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور اسے ڈرہم کاؤنٹی جیل میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ ملزم کا مقتولین کے ساتھ پارکنگ پر تنازع ہوا تھا۔

لیکن مقتولین کے لواحقین نے پولیس کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نوجوانوں کو "مذہبی منافرت" کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس منگل کو دن کی شام سوا پانچ بجے فائرنگ کی آواز کی اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچی اور وہاں اسے تین افراد کی لاشیں ملیں۔

اس واقعہ میں قتل کیے گئے تینوں افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا جاتا ہے اور وہ تینوں مسلمان تھے۔ ان کی شناخت دیا شادی برکت، یصار محمد اور رازان محمد ابو صالح کے نام سے کی گئی ہے۔ برکت اور یصار کا تعلق چیپل ہل جبکہ رازان کا تعلق ریلے کے علاقے سے بتایا گیا ہے۔

ایک بیان کے مطابق 23 سالہ برکت یونیورسٹی کے ڈینٹسڑی اسکول میں دوسرے سال کا طالب علم تھا اور اس کی 21 اہلیہ یصار اس خزاں میں وہاں تعلیم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے محرکات کے حتمی تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

قتل کی اس واردات کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گرما گرم بحث جاری ہے جہاں کئی لوگ اسے مذہبی منافرت کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی مسلمانوں کی بعض انجمنوں نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحقیقات میں مذہبی تناظر کو بھی مدِ نظر رکھے۔

XS
SM
MD
LG