رسائی کے لنکس

امریکہ کی نئی جوہری حکمت عملی کا ایک جائزہ

  • میریڈتھ بیول

امریکہ نے اس ہفتے اپنے نیوکلییئر ہتھیاروں کے بارے میں ایک نئی سٹریٹجک پالیسی کا اعلان کیا۔ اس پالیسی میں پہلی بار روس اور چین جیسی روایتی نیوکلیئر طاقتوں کی بجائے دہشت گردوں اور غیرذمے دار اور سرکش مملکتوں سے پیدا ہونے والے خطرات پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ نئی پالیسی بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی طرف اہم قدم ہے لیکن ناقدین کی نظر میں یہ نئی پالیسی غیر ذمے دارانہ اور خطرات سے پُر ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ امریکہ نے نیوکلیئر اسلحہ کے بارے میں اپنی پالیسی کا جائزہ لیا ہے ۔ نئی پالیسی میں ان حالات کو محدود کر دیا گیا ہے جن میں امریکہ نیوکلیئر اسلحہ استعمال کر سکتا ہے۔ امریکہ کا طویل المدت مقصد یہ ہے کہ دنیا کو نیوکلیئر اسلحہ سے پاک کر دیا جائے۔

اوباما انتظامیہ کی یہ نئی پالیسی پرانی پالیسی سے بہت مختلف ہے ۔ اس کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دہشت گرد تنظیموں سے محفوظ رکھنا ہے۔ امریکہ ان تنظیموں کو روس اور چین سے بھی بڑا خطرہ سمجھتا ہے اگرچہ ان ملکوں کے پاس کئی عشرے پرانے نیوکلیئر ہتھیاروں کا خاصا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

امریکہ کے وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے پینٹا گان میں نئی حکمت عملی کی تفصیلات بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ پالیسی امریکہ کے لیے سکیورٹی کے بدلتے ہوئے ماحول کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے ۔ان کا کہنا ہےکہ ’’اس جائزے میں نیوکلیئر دہشت گردی اور اسلحہ کے پھیلاؤ سے بچاؤکو بجا طور پر امریکی نیوکلیئر پالیسی ایجنڈے میں سر فہرست رکھا گیا ہے۔ نیوکلیئر اسلحہ کے حصول کے لیے القاعدہ کی تگ و دو جاری ہے۔ نیوکلیئر اسلحہ اور میزائلوں کے پھیلاؤ کے لیے ایران اور شمالی کوریا خوب سرگرم ہیں۔ ان حالات میں ہم نے اپنی پالیسی میں جو تبدیلی کی ہے وہ بالکل موزوں بلکہ ضروری ہے‘‘ ۔

اگرچہ نئی پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ کی سکیورٹی کی حکمت عملی میں نیوکلیئر اسلحہ کے رول کو کم کیا جائے لیکن امریکی عہدے دار کہتے ہیں کہ اس سے امریکہ کی اپنی اور اپنے دوستوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت پر برا اثر نہیں پڑے گا۔ امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ ’’کئی نسلوں سے امریکہ کے نیوکلیئر ہتھیاروں کی بدولت نیوکلیئر اسلحہ کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن ہوا ہے۔ ہم نے نیٹو کے ان ملکوں کو جن کے پاس نیوکلیئر اسلحہ نہیں ہے بحرالکاہل میں اور دوسرے ملکوں کو سکیورٹی فراہم کی ہے ۔ اس جائزے میں جن پالیسیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے ان کے ذریعے ہم اپنا استحکام بخشنے والا رول جاری رکھ سکیں گے‘‘۔

پہلی بار امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ان ملکوں کے خلاف نیوکلیئر اسلحہ استعمال نہیں کرے گا جن کے پاس نیوکلیئر اسلحہ نہیں ہے اور جو نیوکلیئر اسلحہ کے عدم پھیلاؤ کے سمجھوتے کی پابندی کر رہے ہیں چاہے وہ ملک امریکہ پر جراثیمی یا کیمیاوی ہتھیاروں سے حملہ کیوں نہ کریں۔ ایران اور شمالی کوریا سے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا ہے کیوں کہ ان ملکوں نے نیوکلیئر اسلحہ کے عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے، میزائلوں کی تیاری کے پروگرام پر عمل جاری رکھا ہے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ہدایات کو ٹھکرایا ہے۔

واشنگٹن کی آرمز کنٹرول ایسو سی ایشن کے ٹام کولینا کہتے ہیں کہ نئی پالیسی ایک مثبت اقدام ہے جس سے ملکوں کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ نیوکلیئر اسلحہ کی تیاری سے باز رہیں ۔ ان کے مطابق ’’اس دستاویز کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں امریکہ کی اس مہم کی حمایت کے لیئے فضا ساز گار ہو گی کہ شمالی کوریا اور ایران کو نیوکلیئر اسلحہ تیار کرنے سے روکا جائے‘‘ ۔

لیکن بعض دوسرے تجزیہ کاروں کو تشویش ہے کہ نئی حکمت عملی کا بالکل الٹا اثر ہو گا۔ میتھیو بن ہارورڈ یونیورسٹی میں نیوکلیئر سیکورٹی اور نیوکلیئر اسلحہ کے عدم پھیلاؤ کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’پیانگ یانگ میں اور تہران میں سخت موقف رکھنے والوں کو جو نیوکلیئر اسلحہ کے طلب گار ہیں اب ایک نئی دلیل مِل گئی ہے۔ ا ب وہ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو امریکہ نے تقریباً بالکل واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ہم اس کی فہرست پر ہیں۔ اب تو ہمیں اس کو حملے سے باز رکھنے کے لیے نیوکلیئر ہتھیار ضرور حاصل کرنا چاہیئے‘‘ ۔

نئی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس آج کل جو ایٹمی اسلحہ کا ذخیرہ ہے وہ خود کش دہشت گردوں اور ایسے غیر دوستانہ ملکوں کی حکومتوں سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہے جو نیوکلیئر اسلحہ حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پھر بھی امریکہ اپنے بین البر اعظمی بلسٹک میزائل اور نیوکلیئر اسلحہ لے جانے والے ہوائی جہاز اور آبدوزیں باقی رکھے گا۔

نئی حکمت عملی کے تحت امریکہ کوئی نئے نیوکلیئر وار ہیڈز یا نیوکلیئر اسلحہ کے نئے ذخائر تیار نہیں کرے گا۔ فرینک گیفنے واشنگٹن میں سینٹر فار سکیورٹی کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے لوگ ہر اس طاقت پر سخت ناراض ہوں گے جو ہمارے ملک پر کیمیکل یا جراثیمی ہتھیاروں سے حملہ کرے گی اور وہ ہر ایسے صدر پر بھی سخت ناراض ہوں گے جو یہ کہے گا کہ ہم ان ملکوں کو سزا نہیں دیں گے ۔ میرے خیال میں یہ بڑی خطرناک اور غیر ذمے دارانہ بات ہوگی‘‘۔

اگلے ہفتے 47 ملکوں کے لیڈر واشنگٹن میں جمع ہوں گے اور نیوکلیئر میٹیریلز کو محفوظ کرنے کے طریقوں کو بہتر بنانے پر بات چیت کریں گے۔ نیوکلیئر اسلحہ کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس اقوامِ متحدہ میں مئی کے مہینے میں ہو گی۔

XS
SM
MD
LG