رسائی کے لنکس

امریکی جوہری بجلی گھروں پر خدشات میں اضافہ

  • کیرولین ویور

امریکی جوہری بجلی گھروں پر خدشات میں اضافہ

امریکی جوہری بجلی گھروں پر خدشات میں اضافہ

جاپان میں پیدا ہونے والے ایٹمی بحران کے بعد امریکہ کے ان ایٹمی ری ایکٹرز کی حفاظت کے بارے میں بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں ، جو زیادہ آبادی والے ان بڑے شہروں کے قریب ہیں جہاں ماہرین ارضیات کے مطابق زلزلے آسکتے ہیں ۔امریکہ میں سب سے زیادہ خطرہ کیلی فورنیا میں قائم دو پاور پلانٹس کو ہے جو سمندر کے قریب ہیں اور دونوں ہی زلزلے کی فالٹ لائن پر واقع ہیں۔ جبکہ امریکہ کے مشرقی ساحلی شہر نیو یارک میں رہنے والوں نے بھی اپنے شہر میں قائم ایٹمی پلانٹ کی حفاظت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے ۔.

نیویارک شہر سے 61 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے ہڈسن پر قائم انڈین پوائنٹ انرجی سینٹر نام کے ایٹمی پاور پلانٹ کے حفاظتی انتطامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ، جس کے ری ایکٹرزنمبر دو اور تین 1970 کی دہائی سے کام کر رہے ہیں ۔ نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے حفاظتی انتظامات کے جائزے کا کام امریکی نیوکلئیر ریگولیٹری کمیشن کی جانب سے اس پاور پلانٹ کے تیسرے ری ایکٹر کو امریکہ کا سب سے خطرناک ایٹمی ری ایکٹر قرار دینے کے بعد دیا ہے ، جو کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ان ایٹمی بجلی گھروں میں سے ہے جسے اضافی احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے ایک گروپ ریور کیپر سے منسلک قانون دان فلپ موسی گاس اس پلانٹ کو بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہناہے کہ ہمیں اس پلانٹ کے بارے میں کئی قسم کے خدشات ہیں ۔ اس سے تیل رسنے کے واقعات اور چھوٹے موٹے حادثے ہو چکے ہیں ۔ اسے بار بار بغیر کسی منصوبہ بندی کے بند کرنا پڑتا رہا ہے ، اس سے تابکارپانی کا رساؤ ہو چکا ہے ۔ اس سے دریائے ہڈسن کی آبی حیات کو بھی نقصان ہو چکا ہے ۔

زلزلوں کا خدشہ بھی ہے ، انڈین پوائنٹ بجلی گھر زلزلے کی ایک ایسی پٹی پر تعمیر کیا گیا تھا جو عرصے سے بے جان پڑی ہے ۔ اس بجلی گھر کی مالک کمپنی اینٹرجی کارپوریشن کا کہنا ہے کہ بجلی گھر کی تعمیر کے وقت یہ خیال رکھا گیا تھا کہ یہ کم از کم چھ اعشاریہ ایک شدت کے زلزلے کو برداشت کر سکے۔ تاہم دوہزار آٹھ میں کولمبیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے خبردار کیاتھا کہ اس علاقے میں چھ اعشاریہ ایک یا سات شدت سے زیادہ کے زلزلے آسکتے ہیں ۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر وان ینگ کم اس تحقیق کے مصنفین میں سے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ہر ساڑھے چھ سو سال میں ایک بار ریکٹر سکیل پر چھ کی شدت کے زلزلے متوقع ہیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ چھ شدت کے زلزلے میں کچھ نہ کچھ نقصان کا اندیشہ ہے مگر ری ایکٹر کی عمارت کو نہیں بلکہ اس کی بیرونی عمارتوں کو ، جیسا کہ جاپان کے متاثرہ ری ایکٹر میں دیکھنے میں آیا۔

تاہم کیلی فورنیا کے انڈین پوائنٹ بجلی گھر کی انتظامیہ کے مطابق کمپنی نے کولمبیا یونیورسٹی کی رپورٹ کی روشنی میں بجلی گھر کی حفاظت کے لئے ایک نئی تحقیق کی ہے ۔

ماحول کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے گروپ ریور کیپر کے فلپ موسےگس کا کہنا ہے کہ جاپان میں ایٹمی ری ایکٹرز کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ زلزلہ یا سونامی نہیں تھا ۔ بلکہ ایندھن ٹھنڈا کرنےکے لئے پانی مہیا کرنے والے پمپس کو بجلی کی فراہمی منقطع ہونا تھا ۔ان کا کہنا ہے کہ انڈین پوائنٹ بجلی گھر کو قدرتی آفتوں اور دہشت گرد حملوں دونوں سے نقصان پہنچ سکتا ہے اور استعمال شدہ ایندھن کے زخائر خاص طور پر خطرناک ہیں۔

فلپ کہتے ہیں کہ اگر وہ آگ پکڑ لیں ، تو بڑی مقدار میں تابکاری خارج ہو سکتی ہے ۔ کیونکہ وہ کسی حفاظتی خول میں نہیں ہیں۔ وہ ایک صنعتی عمارت میں ٹین کی چھت کے نیچے ایسے ہی پڑا رہتا ہے۔ جو ایک بڑا خطرہ ہے ۔

لیکن بجلی گھر کی مالک کمپنی اینٹرجی کارپوریشن کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ ایندھن کے ذخائیر محفوظ ہیں ، اور پلانٹ کوکسی قدرتی آفت یا ہنگامی صورتحال میں بجلی کی فراہمی کے کئی متبادل بندوبست کئے گئے ہیں ۔

گزشتہ اکتوبر میں ایٹمی صنعت کے ایک ماہر پال بلینچ نے امریکہ کے نیوکلئیر ریگولیٹری کمیشن سے درخواست کی تھی کہ وہ قدرتی گیس مہیا کرنے والی ان دو سپلائی لائنز کے حفاظتی انتطامات کا دوبارہ جائزہ لے ، جوانڈین پوائنٹ بجلی گھر کے ایک سو پچاس میٹر کے انتہائی اہم حصے سے گزرتی ہیں ۔ جس کامطلب ہے کہ کسی قدرتی آفت ، زلزلے یا تخریب کاری سے گیس لائنز کو پہنچنے والا نقصان بڑے دھماکے کا باعث بن سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے پلانٹ کے کئی حفاظتی سسٹمز کو نقصان پہنچنے اور بڑی مقدار میں تابکارہ مادے کے اخراج کا خدشہ ہے ۔

امریکی نیوکلئیر ریگولیٹری کمیشن کا کہنا ہے کہ پال بلینچ کی درخواست پرغور کیا جا رہا ہے ۔واضح رہے کہ اسی ادارے کو اگلے ایک سال کے اندر انڈین پوائنٹ کے دو پلانٹس کو اگلے بیس سال کے لئے کام کرنے کا لائسنس بھی جاری کرنا ہے جن کے موجودہ لائسنس کی مدت دو ہزار تیرہ اور دو ہزار پندرہ میں ختم ہو رہی ہے ۔

XS
SM
MD
LG