رسائی کے لنکس

امریکہ میں جوہری بجلی گھروں کی کڑی نگرانی

  • کیرولین پریسوٹی
  • ندیم یعقوب

امریکہ میں جوہری بجلی گھروں کی کڑی نگرانی

امریکہ میں جوہری بجلی گھروں کی کڑی نگرانی

آج سے 32 سال پہلے لگ بھگ انہی دنوں میں امریکی ریاست پیسلوانیا کےتھری مائیل آئی لینڈپرواقع جوہری بجلی گھر کے پلانٹ میں ایک خوفناک حادثہ ہوا تھا۔گو اس حادثے کی شدت جاپان کے فوکوشیما اور یوکرین میں چرنوبل کے جوہری ری ایکٹروں سے تو خاصی کم تھی مگراس حادثے کے نتیجے میں امریکہ میں جوہری توانائی کی ترقی اور پیش رفت رک گئی تھی اور ملک بھر میں جوہری بجلی گھروں کے بارے میں پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیا گیا تھا۔

پنسلوانیا کے مڈل ٹاؤن کی پہاڑیوں کی دوسری طرف دھند میں ایک عجیب سا منظر نظر آتا ہے۔ جوہری توانائی کے پلانٹ کے چار ٹاورز۔ اور ایک ری ایکٹر جو امریکی تاریخ میں خوفناک حادثے کا سبب بنا تھا، اسے ری ایکٹر نمبردو کہتے ہیں۔

ٕمڈل ٹاؤن کی روزیلی ٹیلر اس وقت اپنے دو بچوں کی دیکھ بھال کر رہی تھی جب انہیں پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کے بارے میں اطلاع ملی ۔ حکام نے انہیں گھر کے اند ر رہنے کو کہا۔

وہ کہتی ہیں کہ آپ بس ہر وقت گھر کے اندر بیٹھے یہ سوچتے رہتے تھے کہ آیا ری ایکٹر گرمی کی شدت سے پگھل کر تباہ ہوگا یا نہیں۔

شروع میں تو اس وقت کے گورنر ڈک تھورن برگ نے کہا کہ ایسا نہیں ہو گا۔ مگر اگلے ہی روز انہوں نے حاملہ خواتین اور بچوں کو علاقے سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کہا۔

32 سال بعد بھی یہ حادثہ سابق گورنرکی یادوں میں تازہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم بغیر وجہ لوگوں کو منتقل نہیں کرنا چاہتے تھے اور ہم لمحہ بہ لمحہ تمام معاملات کا جائزہ لے رہے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کو کہا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو علاقے سے دوسری جگہوں پر منتقل کیا گیا ۔

ٹیلر کہتی ہیں ہیں وہ ایک عجیب سا احساس تھا ۔آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آپ اپنے گھر واپس آئیں گے یا نہیں۔ میں صرف انتہائی اہم چیزیں اپنے ساتھ لے سکی۔وہ تصویروں کے البم اور بچوں کے برتھ سرٹیفیکیٹ تھے۔

دانتوں کے ڈاکٹر سام سیلکرعلاقے میں ہی موجود رہے اور مریضوں کو دیکھتے رہے ۔ وہ آج بھی اسی دفتر میں کام کرتے ہیں جہاں وہ 1979ءمیں تھے۔

میرے تمام ملازمین تھری مائیل آئی لینڈمیں پانچ میل کے دائرے میں رہتے ہیں۔ میں نے انہیں کہا ہو ا تھا کہ وہ تابکاری اثرات کی مقدار جانچنے کے لئے ہر وقت آلات اپنے پاس رکھیں ۔

جب ان تابکاری جانچنے والی فلموں کو ڈیلولپ کیا گیا تو ریڈی ایشن کی علامات نہیں ملیں۔ حادثے کے چار روز بعد اس وقت کے صدر جمی کارٹر نے ٕ مڈل ٹاؤن کا دورہ کیا۔

دو دن بعد اس حادثے پر قابو پا لیا گیا۔ اس کے حفاظتی ڈھانچے نے کام کر دکھایااور زیادہ تر ریڈی ایشن خارج نہ ہو سکی۔ کئی برسوں کے بعد سائنس دانوں نے پتہ لگایا کہ ایک والو میں خرابی کی سے ری ایکٹر سے ٹھنڈا پانی بہہ گیا۔ پانی خار ج ہو جانے سے تقریباً نصف جوہری ایندھن کھلا رہ گیا جس کی وجہ سے وہ گرم ہوکر پگھلنے لگا۔

حادثے کی تحقیق کرنے والوں نے حادثے کی ذمہ داری آلات میں خرابی ، انسانی غلطی اور ناکافی تربیت کو قرار دیا۔ تھری مائیل آئی لینڈکے حادثے کی وجہ سے امریکہ کے ہر جوہری پلانٹ میں کنٹرول روم کے مشابہ ایک تربیت گاہ بنانا ضروری قرار دیا گیا ۔ کنٹرول روم میں کام کرنے والوں کو ایک ہفتہ تربیت کرنی ہوتی ہے۔

اس تربیت گاہ میں ایسے الارمز ہیں جنہیں رنگ اور آواز سے پہچانا جا سکتا ہے۔ اور آپریٹرز کو معلوم ہوتا ہے کہ ترجیحاتی بنیادوں پر کس الارم کو پہلے دیکھنا ہے۔ 1979ءکی طرح نہیں جب چار سو مختلف الارمز بیک وقت بجنے شروع ہو گئے تھے اور آپریٹرز کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کریں ۔

تھری مائیل آئی لینڈ کے واقعے کے بعد جوہری صنعت اور جوہری توانائی کے نگران ادارے نے پلانٹس میں کام کرنے والوں کی بہتر تربیت پر زور دیا۔

اس حادثے کے بعد امریکہ میں جوہری توانائی کی پیداوار وقتی طور پر روک دی گئی۔ تھری مائیل آئی لینڈ کے ری ایکٹر نمبر دوکو مستقل طور پر بند کر دیا گیا۔ ری ایکٹر نمبر ایک آج بھی کام کر رہا ہے۔ مگر30 سال تک جوہری توانائی کے نگران ادارے نے امریکہ میں کسی نئے پاور پلانٹ کی تعمیر کے لئے کسی درخواست پر نظرثانی تک نہیں کی۔

XS
SM
MD
LG