رسائی کے لنکس

جوہری اسلحہ، کس کے پاس کیا کچھ ہے، ظاہر کریں


جوہری اسلحہ، کس کے پاس کیا کچھ ہے، ظاہر کریں

جوہری اسلحہ، کس کے پاس کیا کچھ ہے، ظاہر کریں

امریکہ نے حال ہی میں اعلان کر دیا ہے کہ اس کے پاس کتنے نیوکلیئر وار ہیڈز موجود ہیں ۔ ایک پرائیویٹ ریسرچ فرم نے بھی امریکہ کے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد کے بارے مِیں اندازہ لگایا تھا، اور یہ اندازہ سرکاری اعلان کے بالکل نزدیک تھا۔

امریکی محکمۂ دفاع کی دستاویزات کے مطابق گذشتہ ستمبر تک امریکہ کے نیوکلیئر ہتھیاروں کے ذخائر میں وار ہیڈز کی تعداد 5,113 تھی ۔ ان میں وہ دور مار وارہیڈز شامل ہیں جو منجنیقی میزائلوں پر لگے ہوئے ہیں، جو سٹاک میں محفوظ ہیں ، اور جو کم فاصلے تک مار کرنے والے ڈلیوری سسٹمز پر نصب ہیں۔

ان میں وہ وار ہیڈز شامل نہیں ہیں جو ٹھکانے لگانے کے لیے علیحدہ کر لیے گئے ہیں۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق ان کی تعداد چار سے پانچ ہزار ہے ۔

کئی دہائیوں تک، امریکہ کے نیوکلیئر وار ہیڈز کی تعداد کو انتہائی خفیہ رکھا جاتا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ تخفیف اسلحہ کی نجی تنظیمیں ، امریکہ کے وار ہیڈز کی تعداد کا اندازہ لگانے میں مصروف رہیں۔ ایسی ہی ایک تنظیم Federation of American Scientists ہے۔ اس تنظیم کے ایک ڈائریکٹر، ہانز کرسٹنسن کہتے ہیں کہ حال ہی میں ان کے گروپ نے اندازہ لگایا تھا کہ امریکہ کے نیوکلیئر اسلحہ کے ذخیرے میں 5,100 وار ہیڈز موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

ہمارے اندازے میں اور اصل تعداد میں صرف 13 کا فرق تھا، جب کہ اصل تعداد انتہائی خفیہ رکھی گئی تھی۔ ہمیں جو چیز عجیب محسوس ہوئی وہ یہ تھی کہ اگر ہم نے اتنا زیادہ صحیح اندازہ لگا لیا، تو پھر ان معلومات کو خفیہ رکھنے کا کیا مقصد تھا۔ اگر تخفیف اسلحہ کے ہم چندماہرین یہاں واشنگٹن میں یہ کام کر سکتے ہیں، تو ہمارے حریف بھی ایسا کر سکتے ہیں۔

کرسٹنسن کہتے ہیں کہ امریکی سائنسدانوں کی فیڈریشن نے اس اندازے پر پہنچنے کے لیئے ایسے کھلے ذرائع کو استعمال کیا جو ہر ایک کو دستیاب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے پرانی دستاویزات کی چھان بین کی، امریکی کانگریس کی سماعتوں اور بجٹ کی تفصیلات کا مطالعہ کیا۔ سرکاری کاغذات ، تقریریں، ہتھیاروں کی تیاری کی تاریخ، پرانے معاہدے، غرض ہمیں جہاں سے بھی کچھ معلومات مِل سکتی تھیں، ہم نے اکٹھی کر لیں۔ بعض انتہائی قیمتی معلومات ہمیں اخباروں کے مضامین سے ملیں۔ اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ کسی کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل گئی جس سے ہمیں مدد ملی۔ لیکن بڑی حد تک ہماری معلومات کا ذریعہ وہ چیزیں تھیں جو سب کو دستیاب تھیں۔ ہمیں کسی اندر کے آدمی نے کوئی خفیہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اب سوال یہ ہے کہ کیا دوسرے ملک بھی جو یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کے پاس نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں، خاص طور سے چین اور روس، امریکہ کی تقلید کرتے ہوئے، اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد بتانے کو تیار ہو جائیں گے۔

چند سال قبل، فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے اعلان کیا تھا کہ وہ فرانس کے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد گھٹا کر، 300 وار ہیڈز سے کم کر دیں گے۔ 1998 میں برطانوی حکومت نے کہا تھا کہ وہ اپنے پاس 200 سے بھی کم تعداد میں قابلِ استعمال وار ہیڈز رکھے گی۔

اندازہ ہے کہ روس کے نیوکلیئر اسلحہ کا ذخیرہ 12,000 وار ہیڈز پر مشتمل ہے ۔ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر اور تخفیفِ اسلحہ کے ماہر، جان بولٹن کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ روس اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد کو افشا ء کرے گا۔ ان کے الفاظ ہیں:

میرا خیال ہے کہ ماسکو میں لوگوں سے ہنسی ضبط نہیں ہو رہی ہوگی اور وہ امید کر رہے ہوں گے کہ امریکہ کی طرف سے مزید یکطرفہ رعایتیں مل جائیں اور انکشافات ہو جائیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر روسیوں نے اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کی کوئی تعداد بتا بھی دی، تو میں ان پر مطلق اعتبار نہیں کروں گا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ چین کی طرف سے ایسی معلومات کی فراہمی کا امکا ن نہیں ہے ۔ پرائیویٹ ریسرچ گروپ، آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈیرِل کِمبَل کہتے ہیں:

چین کا نیوکلیئر اسلحہ کا ذخیرہ امریکہ یا روس کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے ۔ اس کے پاس کُل 300 کے لگ بھگ نیوکلیئر ہتھیار ہیں اور ان میں سے صرف 30 سے 40 لمبے فاصلے کے منجنقی میزائلوں پر لگے ہوئے ہیں۔ چین کو اپنے نیوکلیئر اسلحہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں بہت زیادہ تامل ہوگا ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسے اندیشہ ہے کہ اس طرح سب کو معلوم ہو جائے گا کہ اس کا ذخیرہ کتنا چھوٹا ہے ۔ میرے خیال میں چین اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد کا اعلان کرنے میں کافی وقت لگائے گا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دنیا کو نیوکلیئر اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ تمام ملک کھلے عام اعلان کریں کہ ان کے پاس کتنا نیوکلیئر اسلحہ موجود ہے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا اسی صورت میں ہوگا جب تمام ملک اس پر اتفاق کر لیں کہ اکیسویں صدی کے خطرات، جیسے دہشت گردی، کا مقابلہ نیوکلیئر ہتھیاروں سے نہیں ہو سکتا۔

XS
SM
MD
LG