رسائی کے لنکس

جاپان میں جاری بحران سے پہلے جوہری حادثے کی یاد تازہ

  • گیری تھامس

تھری مائل آئی لینڈ

تھری مائل آئی لینڈ

جاپان میں زلزلے اور سونامی کے بعد نیوکلیئر پاور پلانٹس میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں، ان سے 31 سال قبل امریکہ میں تھری مائل آئی لینڈ کے نیوکلیئر حادثے کی یاد تازہ ہوئی ہے ۔ اس واقعے کی تفصیلات جاننے والے لوگ کہتے ہیں کہ اُس حادثے اور جاپان کے فوکو شیما ری ایکٹرز میں کچھ باتیں ملتی جلتی اور کچھ بالکل مختلف ہیں۔

28 مارچ، 1979 کو علی الصبح، امریکی ریاست پینسلوینیا میں تھری مائل آئی لینڈ کے مقام پر دو نیوکلیئر پاور ری ایکٹرز میں سے ایک میں ایک والو پھنس گیا۔ اس کے بعد جو واقعات ہوئے ان کے نتیجے میں دنیا کا پہلا تجارتی نیوکلیئر پاور پلانٹ حادثے کا شکار ہو گیا۔

امریکہ کے نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن یا NRC کے خیال میں یہ حادثہ مشینی خرابی، مشین کے ڈیزائن سے متعلق مسائل اور کارکنوں کی غلطیوں کی وجہ سے پیش آیا۔ پلانٹ میں یا آس پاس کی بستیوں میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ اس کے باوجود یہ انتہائی پریشانی کا وقت تھا ۔ امریکہ ایک ایسے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا جو اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا۔

تشویش کے چھ دنوں میں جب اس حادثے کی خبرعام ہوئی، تو عوام میں بے چینی پھیل گئی۔ اس دور میں رچرڈ تھورن برگ ریاست پینسلوینیا کے گورنر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابتدا میں انھوں نے جو اطلاعات فراہم کیں وہ گمراہ کن یا الجھی ہوئی تھیں کیوں کہ انہیں اس کمپنی کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرنا پڑتا تھا جو تھری مائل آئی لینڈ چلا رہی تھی۔ انھوں نے وفاقی حکومت سے مدد مانگی جو انہیں NRC کے ایک نیوکلیئر انجینیئر کی شکل میں فراہم کی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ انجینیئر صحیح معنوں میں تھری مائل آئی لینڈ کے ہیرو ثابت ہوئے ۔’’جمعہ، 30 مارچ، 1979 کو ہیرالڈ ڈینٹن کی آمد تک، ہمارے لیئے انتہائی مشکل وقت تھا۔ انہیں صدر کارٹر نے میری درخواست پر بھیجا تھا۔ وہ نیشنل ریگولیٹری کمیشن میں کیریئر انجینیئر تھے۔ ان کی آمد سے بہت فرق پڑا کیوں کہ وہ ہمارے لیئے معلومات کااصل ذریعہ بن گئے۔‘‘

شروع میں جو گمراہ کن اطلاعات دی گئی تھیں، ان پر عام لوگ ناراض تھے ۔ ڈینٹن کی شخصیت پُر سکون اور با اعتماد تھی اور وہ بڑے وثوق سے اور با وقار انداز سے بولتے تھے۔ وہ اب 79 برس کے ہیں اور NRC سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ وہ کہتےہیں کہ انہیں حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی اور اسی لیئے وہ تھری مائل آئی لینڈ کی تباہی کے بارے میں کُھل کر بات کر سکتے تھے۔’’اب میں اس وقت کو یاد کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میرا رول واقعی منفرد تھا۔ مجھے صدر کارٹر اور گورنر تھورن برگ کی حمایت حاصل تھی۔ میں نے ہر بات بالکل صاف صاف بتانے کی کوشش کی۔ میں وہاں بالکل صحیح وقت پر پہنچا تھا کیوں کہ پاور کمپنی اپنی ساکھ کھو چکی تھی۔ اس نے اس حادثے کی سنگینی کو نہیں سمجھا تھا۔‘‘

تھری مائل آئی لینڈ کا حادثہ کسی زلزلے یا سونامی کی وجہ سے نہیں ہوا تھا، جیساکہ جاپان میں ہوا۔ ڈینٹن نے کہا کہ فوکوشیما کے ری ایکٹروں کو تھری مائل آئی لینڈ کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے اور ان سے خارج ہونی والی تابکاری کی مقدار بھی بہت زیادہ ہےاور ان دونوں حادثات میں ایک اور بڑا فرق یہ ہے کہ تھری مائل آئی لینڈ میں بجلی کی سپلائی منقطع نہیں ہوئی تھی، جیساکہ جاپانی پلانٹ میں ہوا ہے۔ تا ہم ڈینٹن کہتے ہیں کہ تھری مائل آئی لینڈ یا فوکوشیما پر کنٹرول بحال کرنے اور تابکاری کا اخراج روکنے کے چیلنج ایک جیسے ہیں۔

صحیح معلومات حاصل کرنے اور تشویش میں مبتلا دنیا میں اعتبار قائم رکھنے کے چیلنج بھی ایک جیسے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تھری مائل آئی لینڈ کے حادثے سے لوگوں میں نیوکلیئر پاور انڈسٹری کے بارے میں اعتماد کم ہوگیا، نہ صرف امریکہ میں بلکہ دنیا بھر میں۔’’تھری مائل آئی لینڈ کے حادثے سے نیوکلیئر پاور کی صنعت پر اور اس کے محفوظ ہونے پر بہت سے لوگوں کا اعتماد ختم ہو گیا اور 30 برس تک اس ملک میں کسی نئے پلانٹ نے کام شروع نہیں کیا۔ اور بات صرف نیوکلیئر پاور پلانٹ سے پیدا ہونے والے خطرات کی نہیں تھی بلکہ اس کے اقتصادی پہلو کی بھی تھی ۔ نیوکلیئر پاور پلانٹس ، توانائی کے دوسرے ذرائع، جیسے قدرتی گیس کے مقابلے میں بہت مہنگے ہو گئے۔‘‘

چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ (فائل فوٹو)

چرنوبل نیوکلیئر پلانٹ (فائل فوٹو)

ڈینٹن اور دوسرے تجزیہ کار فوکوشیما کے تباہ کن حادثے کو تھری مائل آئی لینڈ سے بدتر قرار دیتے ہیں لیکن 1986 میں چرنوبل کا جو نیوکلیئر حادثہ ہوا تھا وہ ان دونوں حادثات سے زیادہ سخت تھا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ نیوکلیئر پاور میں عوام کے اعتماد کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ پچھلے دونوں حادثات جیسا ہی ہے۔

XS
SM
MD
LG