رسائی کے لنکس

اوباما کی قیادت اور اقتصادی پالیسیاں ہدف تنقید

  • ڈان رابنسن

اوباما کی قیادت اور اقتصادی پالیسیاں ہدف تنقید

اوباما کی قیادت اور اقتصادی پالیسیاں ہدف تنقید

گذشتہ ہفتے کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اتار چڑھاؤ آتا رہا اور صدر اوباما کی قیادت اور انکی اقتصادی پالیسیوں پر سخت تنقید ہوئی۔ صدر پر 2012ء کے انتخاب میں ریپبلیکن صدارتی امیدواروں نے تنقید کی لیکن بعض ممتاز کالم نگاروں اور افریقی امریکی شخصیتوں نے بھی انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

ریپبلیکنز کے ساتھ مسٹر اوباما نے 2.4 ٹریلین ڈالر خسارے اور قرض میں کمی کے پیکیج کا جو مشکل سمجھوتہ کیا، اور ایک بڑی ریٹنگ ایجنسی کی طرف سے امریکہ کی کریڈٹ کی ساکھ کو کم کرنے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں جو شدید اتار چڑھاؤ آیا، اس کے بعد مسٹر اوباما پر شدید تنقید ہوئی۔

ناقدین نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ دو سال پہلے کانگریس نے مالیاتی بحران اور کساد بازاری کا مقابلہ کرنے کے لیے، صدر اوباما کا اقتصادی بحالی کا 800 ارب ڈالر کا جو پیکیج منظور کیا تھا، وہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی بحالی کی رفتار قائم رکھنے میں ناکافی ثابت ہوا۔

2012 میں جو ریپبلیکن امید وار مسٹر اوباما کی جگہ لینے کی کوشش کر ر ہے ہیں، ان میں ریاست میسا چوسٹس کے سابق گورنر مٹ رومنے صدر پر تنقید میں روز بروز زیادہ سخت زبان استعمال کر رہے ہیں۔

تا ہم مسٹر اوباما کی کارکردگی پر انتہائی سخت تنقید بعض ممتاز کالم نویسوں کی طرف سے کی گئی ہے جنھوں نے ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر شبہے کا اظہار کیا ہے۔

بعض مبصرین نے، جن میں مسٹر اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی کے انتہائی بائیں بازو کے قانون ساز شامل ہیں، اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ریپبلیکنز کے رویے کا سامنا کرنے کے لیے جس عزم و حوصلے کی ضرورت ہے ان میں اس کی کمی ہے ۔ صدر نے ریپبلیکنز کے رویے کو ہٹ دھرمی کا نام دیا ہے ۔ مسٹر اوباما یقیناً پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنھیں اپنے عہدِ صدارت کے اس مرحلے میں، اتنی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن ملک کے پہلے افریقی امریکی صدر کے لیے، حالیہ مہینوں میں بعض ممتاز افریقی امریکی شخصیتوں کے طرف سے کہے گئے کلمات شاید زیادہ چبھتے ہوئے تھے۔

ایک حالیہ نیوز بریفنگ میں جب اس قسم کی تنقید کے بارے میں پوچھا گیا، تو وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جے کارنے نے کہا کہ مسٹر اوباما کی توجہ اب بھی نہ صرف معیشت کی مجموعی حالت کو بہتر بنانے پر ہے، بلکہ ان لوگوں پر بھی ہے جو آج کل سب سے زیادہ مشکل میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’صدر کی تمام تر توجہ ان تمام امریکیوں پر ہے جو ان خراب اقتصادی حالات میں مصیبتیں اٹھا رہے ہیں اور وہ جن پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، ان میں ان لوگوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے جو خراب معیشت سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔‘‘

چند ممتاز افریقی امریکیوں کی طرف سے تنقید کے باوجود، مسٹر اوباما اب میں افریقی امریکیوں میں بہت مقبول ہیں، اگرچہ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے ایسی علامتیں ظاہر ہوئی ہیں کہ شاید ان کی حمایت کم ہوتی جا رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے عہدے دار کہتے ہیں کہ صدر کی توجہ اب بھی مالیاتی بحران سے متاثر ہونے والے افریقی امریکیوں اور دوسری اقلیتی کمیونٹیوں پر ہے۔ جولائی میں جب وہ نیشنل اربن لیگ کے سربراہ مارک موریل سے ملے تو انھیں اس بارے میں یاد دہانی کرائی گئی۔ مسٹر موریل نے کہا کہ ’’اس حقیقت کے باوجود کہ پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، سیاہ فام آبادی میں بے روزگاری کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔‘‘

ملک بھر کے دوروں میں، اور انتخابی مہم کے لیے فنڈز جمع کرنے کے تقریبوں میں مسٹر اوباما تنقید کا جواب دے رہے ہیں۔ اگلے ہفتے بس کے ذریعے امریکی کی تین وسط مغربی ریاستوں کے دورے میں بھی وہ اپنی پالیسیوں کی وضاحت کریں گے۔

گذشتہ ہفتے مشی گن کی ایک بیٹری فیکڑی میں، انھوں نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ امریکی کانگریس کے ارکان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ گروہ بندی اور تعطل کی سیاست کو ختم کر دیں جس سے عام لوگوں کے اعتماد کو دھچکہ لگا ہے۔ ان کے مطابق ’’آپ کو انھیں بتانا ہو گا کہ آپ کھیل تماشہ بہت دیکھ چکے ہیں، بہت سیاست ہو چکی ہے، اب انہیں اخباری بیانات بھیجنا بند کر نےچاہیئں، اور قوانین کے وہ مسودے منظور کرنے چاہیئں جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ ان سے ہماری معیشت کو فوری مدد ملے گی۔ ان کے کرنے کا کام یہی ہے۔ انھیں آپ کی طرف سے یہ پیغام ملنا چاہیئے۔‘‘

صدر براک اوباما

صدر براک اوباما

اگلے ہفتے جب مسٹر اوباما منی سوٹا، آیووا، اور الی نائے کا دورہ کریں گے، تو وہ ان ریاستوں میں اور کئی ٹاؤن ہال میٹنگوں میں معیشت کے بارے میں امریکیوں کی مایوسی اور پریشانیوں کا احوال سنیں گے۔ جمعے کے روز ڈپٹی پریس سیکرٹری جوش ارنسٹ نے کہا کہ صدر کانگریس کے بعض ارکان کے سخت موقف کے بارے میں بھی بتائیں گے۔ ان کا اشارہ ریپبلیکنز اور ٹی پارٹی کے قانون سازوں کی طرف تھا جن میں اپنی پارٹی کو ملک پر ترجیح دینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

تاہم، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ مسٹر اوباما ان سمجھوتوں کے بارے میں جو انھوں نے ریپبلیکنز کے ساتھ کیے ہیں، بعض ایسے لوگوں کے سوالات کا جواب دینے کو بھی تیار ہیں جنھوں نے 2008ء میں انھیں ووٹ دیا تھا۔

واپسی پر ، صدر اپنے گھرانے کے ساتھ ریاست میسا چوسٹس میں مارتھاز وائنیارڈ کے مقام پر 10 روز کی چھٹی گزارنے جائیں گے۔ ایسے وقت میں جب ملک مالی مشکلات میں گرفتار ہے، کیا اس چھٹی سے غلط تاثر ملے گا؟ پریس سیکرٹری جے کارنے نے اس ہفتے رپورٹروں سے کہا کہ امریکیوں کو مسٹر اوباما کے اپنے گھر کے لوگوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ صدر کو چھٹی نام کی کوئی چیز نہیں ملتی۔

XS
SM
MD
LG