رسائی کے لنکس

صدر اوباما کے مذہبی عقیدے کے بارے میں اُلجھن

  • جیروم سکولووسکی

صدر براک اوباما

صدر براک اوباما

امریکی لیڈروں کی سیاسی کامیابی میں اکثر ان کے مذہبی عقائد بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صدر اوباما نے اسلامی دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات کے فروغ کے لیے اس حقیقت کو استعمال کیا ہے کہ ان کے والد مسلمان تھے۔ رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق تقریباً 20 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر اوباما مسلمان ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے امریکیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو صدر اوباما کے مذہبی عقائد کے بارے میں اُلجھن کا شکار ہیں۔

امریکہ کے کونے کونے سے آئے ہوئے لوگ وائٹ ہاؤس کے سامنے آتے ہیں اور تصویریں کھینچتے ہیں۔

Trudy Lehnen امریکہ کی وسط مغربی ریاست الی نائے کی رہنے والی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’مجھے معلوم نہیں کہ ان کا مذہب کیا ہے لیکن میرے خیال میں وہ عیسائی نہیں ہیں۔ میں یہ ضرور جانتی ہوں کہ ان کا رجحان مسلمانوں کی طرف ہے‘‘ ۔

وہ کہتی ہیں کہ صدر اپنی خارجہ پالیسی میں برطانیہ اور اسرائیل جیسے روایتی حلیفوں کے بجائے مسلمانوں کی طرفداری کرتے ہیں۔ ان کے شوہر ان کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتےہیں کہ میرے خیال میں بنیادی بات یہ ہے کہ آپ جس ماحول میں پلے بڑھے ہیں، اس کے اثرات ضرور باقی رہتےہیں۔

ان میاں بیوی کا رویہ The Pew Forum on Religion and Public Life کے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق ہے ۔ اس سروے میں شامل 18 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اگرچہ صدر اوباما خود کو عیسائی کہتے ہیں، لیکن وہ مسلمان ہیں۔ یہ سروے جولائی کے آخر میں اور اگست کے شروع میں کیا گیا تھا، یعنی اس سے قبل جب صدر اوباما نے نیو یارک میں 2001ء کے دہشت گردوں کے حملے کے مقام کے نزدیک مجوزہ اسلامک کلچرل سینٹر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔

Pew Forum کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر Alan Cooperman کہتے ہیں کہ وہ لوگ جن میں اوباما کو مسلمان سمجھنے کا رجحان ہے، وہ عموماً وہی لوگ ہیں جو ان کی کارکردگی کو پسند نہیں کرتے اور وہ شاید کوئی پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’’مجھے تو یہ بھی یقین نہیں کہ یہ تمام لوگ واقعی صدر کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں کے ان کو مسلمان کہنے کی جزوی وجہ شاید یہ ہے کہ اس طرح وہ دراصل یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ ہم جیسے نہیں ہیں۔ وہ مختلف ہیں‘‘۔

امریکی کانگرس

امریکی کانگرس

براک اوباما کے والد مسلمان تھے ۔ اگرچہ صدر کے مخالفین نے انتخابی مہم میں اس چیز کو ان کے خلاف استعمال کیا، لیکن مسٹر اوباما نے کہا کہ ان کے خاندانی پس منظر سے مسلمان دنیا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ Pew Forum کے Alan Cooperman کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اس وجہ سے صدر کے ناقدین کو ان کے مذہبی عقیدے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا موقع مل گیا ہو ۔ ممکن ہے ان کے حامیوں کے ذہنوں میں بھی بعض سوالات پیدا ہو رہے ہوں۔ Pew کے سروے کے مطابق، صرف 46 فیصد ڈیموکریٹس مسٹر اوباما کو عیسائی سمجھتے ہیں۔ گذشتہ سال یہ تعداد 55 فیصد تھی۔

جارج میسن یونیورسٹی کے جان فرینا کہتے ہیں کہ صدر اوباما جس طرز کے عیسائی عقائد پر کاربند ہیں، وہ عام امریکیوں کی مذہبیت سے مختلف ہے۔ اس میں افریقی امریکی لیڈر جیسے آنجہانی مارٹن لوتھر کنگ جونیئر بھی شامل ہیں۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے وہ عام سیاہ فام امریکی سیاست دانوں سے مختلف ہیں۔

Pew کے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ افریقی امریکی صدر کے پر جوش حامی ہیں، لیکن ان میں بھی نصف سے زیادہ کو یقین نہیں کہ وہ عیسائی ہیں۔

صدر اوباما پہلے امریکی صدر نہیں جنھیں اپنے مذہب کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 1960ء کی انتخابی مہم میں جان ایف کینیڈی کا کیتھولک مذہب ایک مسئلہ بن گیا تھا اور انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پوپ سے ہدایات نہیں لیں گے۔

لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر اوباما مختلف نظر آتے ہیں۔ صدر کے ناقدین، ان کے مذہب کے علاوہ، ان کے پیدائش کے سرٹیفیکیٹ کے صحیح ہونے پر بھی شبہے کا اظہار کرتے ہیں جو ریاست ہوائی میں جاری کیا گیا ہے۔ امریکی آئین کے مطابق صرف وہی لوگ صدر بن سکتے ہیں جو پیدائشی طور پرامریکی شہری ہوں۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر فواد عجمی کہتے ہیں کہ ’’اس قسم کی کہانیاں اور تاریخی سازشوں کی داستانیں، خراب حالات میں جنم لیتی ہیں۔ قرون وسطیٰ میں یورپ میں ایسا ہوا تھا، امریکہ کی تاریخ میں بھی ایسے واقعات موجود ہیں، اور اسلامی تاریخ میں بھی۔ جب لوگ پریشان ہوتے ہیں، مفلوک الحال ہوتےہیں اور پرانے آزمودہ طریقے کام نہیں کرتے، تو لوگ ہر چیز پر یقین کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں‘‘۔

صدر کے بارے میں اس قسم کے خیالات کی مقبولیت کی دوسری وجوہات میں انٹرنیٹ کا عام ہونا اور 24 گھنٹے کی نیوز رپورٹنگ شامل ہیں۔ ماہرین اس طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اس قسم کے خیالات ایسے وقت میں پھیل رہے ہیں جب صدر کی مقبولیت کی شرح ریکارڈ حد تک کم ہو گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG