رسائی کے لنکس

مذہبی آزادی کا دفاع کیا جائے گا

  • بیور ب

صدر براک اوباما

صدر براک اوباما

وائٹ ہاؤس میں افطار ڈنر سے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ ہر امریکی کو اپنے مذہب کے مطابق عمل پیرا ہونے کی آزادی حاصل ہے ۔

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ مسلمان کئی نسلوں سے امریکہ میں آباد ہیں اور اسلام دیگر مذاہب کی طرح امریکہ کا ایک حصہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے وائٹ ہاؤس میں افطار ڈنر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔

امریکی صدر نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک بار پھر رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب ایک دوسرے سے مختلف اور خاص ہیں اور رمضان میں دیکھی جانے والی روایت بہت سے دوسرے مذاہب میں بھی نظر آتی ہیں۔

’’پیروکار خدا کے آگے روزے اور عبادت میں مصروف ہوتے ہیں۔ خاندان والے ایک دوسرے سے محبت کا جذبہ لیے مل رہے ہوتے ہیں۔ لوگ خیرات دینے کے لیے نکلتے ہیں اور مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے فرائض سے آگاہی رکھتے ہوئے اکٹھے ہوتے ہیں۔ امن، انصاف اور تمام لوگوں کی عزت اور احترام کے لیے۔‘‘

صدر اوباما نے اس موقع پر مسلمان خواتین کے اپنے حق کے لیے آواز کو بلند کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ’’ہم نے مسلمان خواتین کی طرف سے عرب سپرنگ میں غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ دیکھا۔ مردوں کے شانہ بشانہ خواتین اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکلیں، اپنی آزادی کے لیے مارچ کیے، بلاگ، ٹوئٹر اور ویب پر وڈیو پوسٹ کرتی رہیں اس عزم کے ساتھ کہ انھیں سنا جائے۔ کچھ جگہوں پر ٹینکوں اور گولیوں کا سامنا بھی نظر آئیں اور آزادی کے حصول کے لیے جانیں بھی دیتی نظر آئیں۔‘‘

انھوں نے اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں موجود مسلمان خواتین کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دیگر لاکھوں امریکی مسلمانوں کی طرح ملک کے استحکام کے لیے ہردن مصروف عمل ہیں۔

صدر اوباما نے گزشتہ دنوں امریکی ریاست وسکانسن میں سکھوں کی عبادت گاہ پر فائرنگ میں ہونے والی ہلاکتوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں بسنے والے کسی بھی مذہب کے پیروکاروں پر حملہ امریکہ کی آزادی پر حملہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہر امریکی کو اپنے مذہب کے مطابق عمل پیرا ہونے کی آزادی حاصل ہے ۔ ’’اور ہم اس مذہبی آزادی کا دفاع کریں گے یہاں (امریکہ) بھی اور پوری دنیا میں بھی۔‘‘

صدر اوباما نے کہا کہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے امریکی پر حملہ تمام امریکیوں کی آزادی پر حملے کے مترادف ہے۔

’’آج ہم یک زبان ہو کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس طرح کے تشدد کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں۔‘‘
XS
SM
MD
LG