رسائی کے لنکس

رائے عامہ کے جائزوں میں اوباما سے متعلق ملا جلا رد عمل

  • جم میلون

رائے عامہ کے جائزوں میں اوباما سے متعلق ملا جلا رد عمل

رائے عامہ کے جائزوں میں اوباما سے متعلق ملا جلا رد عمل

رائے عامہ کے کچھ نئے جائزوں میں صدر براک اوباما کے لیے، جن کی نظریں اگلے سال کے صدارتی انتخاب پر لگی ہوئی ہیں، اچھی اور بری دونوں قسم کی خبریں موجود ہیں۔

رائٹرز/اپسوس (Ipsos) کے تازہ ترین جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی مستقبل کے بارے میں روز بروز مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ تریسٹھ فیصد امریکیوں نے کہا کہ ملک آج کل غلط راہ پر جا رہا ہے، یعنی پچھلے مہینے کے مقابلے میں تین پوائنٹ زیادہ۔

تازہ ترین کوئنیپیاک ((Quinnipiac پول میں، معیشت کے بارے میں 38 فیصد ووٹرز نے صدر براک اوباما کی پالیسی کو پسند کیا جب کہ 56 فیصد نے نا پسند کیا۔ اس سوال کے بارے میں کہ کیا مسٹر اوباما دوبارہ منتخب ہونے کے مستحق ہیں، 47 فیصد نے ہاں میں اور 47 فیصد نے نا میں جواب دیا۔

لیکن رائے عامہ کے جائزوں کے اعداد و شمار میں صدر کے لیے کچھ اچھی خبر بھی ہے۔ دونوں جائزوں سے ظاہر ہوا کہ ووٹرز کی نظر میں اب بھی ووٹرز کا یہی خیال ہے کہ موجودہ اقتصادی مسائل کی ذمہ داری مسٹر اوباما کے مقابلے میں، سابق صدر جارج ڈبلو بُش پر زیادہ عائد ہوتی ہے۔ اور کوئنیپیاک کے سروے سے پتہ چلا ہے کہ معیشت کے معاملے میں امریکی، کانگریس کے ریپبلیکن ارکان کے مقابلے میں صدر پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔

پیٹر براؤن کوئنیپیاک یونیورسٹی پولنگ انسٹی ٹیوٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ایسے صدارتی انتخابات جن میں ایک صدارتی امید وار وہائٹ ہاؤس میں ہوتا ہے ، ایک طرح سے موجود صدر کا ریفرینڈم ہوتے ہیں۔ صدر کے بارے میں لوگوں کی رائے اچھی ہے، لیکن بہت اچھی نہیں ہے۔ جب ووٹروں سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں دوسری مدت کے لیے منتخب کیا جانا چاہیئے، تو نصف لوگوں نے ہاں میں اور بقیہ نصف نے نا میں جواب دیا۔‘‘

سروے میں مسٹر اوباما کو ایک اور اچھی خبر اس وقت ملی جب ان کا موازنہ اگلے سال کے صدارتی انتخاب کے لیے ریپبلیکن امیدواروں سے کیا گیا۔

براؤن کہتے ہیں کہ صدر کو چوٹی کے موجودہ ریپبلیکن امیدوار، ریاست میسا چوسٹس کے سابق گورنر مٹ رومنی پر معمولی سی سبقت حاصل ہے۔ پول سے یہ بھی پتہ چلا کہ کانگریس کی ریپبلیکن خاتون رکن مشیل بیکمین پر اور دو ممکنہ امیدواروں، الاسکا کی سابق گورنر سارہ پیلن اور ریاست ٹیکساس کے گورنر رک پیری پر صدر اوباما کو زیادہ بڑی سبقت حاصل ہے۔

براؤن کا کہنا ہے کہ’’مسٹر اوباما بدستور ان سب سے آگے ہیں اور پیچھے رہ جانے کے بجائے آگے ہونا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ وہ مسٹر رومنی کے مقابلے میں چھہ پوائنٹس آگے ہیں۔ جون میں کوئنیپیاک کے سروے میں بھی ان کی پوزیشن یہی تھی۔ مس بیکمین، پیری اور مس پیلن پر انہیں دس پوائنٹس سے زیادہ کی سبقت حاصل ہے۔‘‘

رائے عامہ کے جائزوں میں اوباما سے متعلق ملا جلا رد عمل

رائے عامہ کے جائزوں میں اوباما سے متعلق ملا جلا رد عمل

پیلن نے کہا ہے کہ وہ ستمبر کے شروع میں اعلان کریں گی کہ وہ صدارتی انتخاب لڑیں گی یا نہیں۔ پیری بھی ریپبلیکن امید وار کی حیثیت سے میدان مِیں آنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

کوئنیپیاک پول کے مطابق صدارت کے لیے ریپبلیکن امیدواروں میں سب سے زیادہ حمایت رومنی کو حاصل ہے۔ انھیں پچیس فیصد ووٹ ملے۔ ان کے بعد بیکمین کو 14 فیصد، پیلن کو 12 فیصد، اور پیری کو 10 فیصد ووٹ ملے۔ بقیہ ریپبلیکن اُمیدواروں کو چھہ فیصد یا اس سے بھی کم ووٹ ملے۔

پولسٹر براؤن کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ قدامت پسند ریپبلیکنز میں مشیل بیکمین کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ لوگ سابق گورنر رومنی کا کوئی متبادل امیدوار چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’ظاہر ہے کہ مس بیکمین انتخابی مہم چلانے میں بڑی مشاق ہیں۔ انھوں نے ریاست آیووا پر پوری توجہ دی ہوئی ہے اور وہاں انھیں خاصی کامیابی ہو رہی ہے ۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اپنی انتخابی مہم کی اس رفتار کو قائم رکھ سکیں گی۔‘‘

رائے عامہ کے تازہ جائزوں میں صدر اوباما کی برتری کے باوجود، پولسٹر جان زوگبی کہتے ہیں کہ مئی میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد صدر اوباما کی مقبولیت میں جو اضافہ ہوا تھا، اس کا اثر بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے اور اب اگلے سال کے صدارتی انتخاب میں بڑے کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بن لادن کی ہلاکت کا اثر ختم ہو چکا ہے۔ بے روزگاری کی شرح بہت اونچی ہے۔ لوگ خاصے خوفزدہ ہیں۔ اوباما کو غیر جانب دار ووٹروں کو واپس لانا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی انھیں اپنے حامیوں میں، جو کبھی کالوں، ہسپانکس اور نوجوان لوگوں پر مشتمل تھے، پھر سے جوش و جذبہ پیدا کرنا ہو گا۔‘‘

صدر کو اپنی انتخابی مہم کے محاذ سے فنڈز جمع کرنے کے بارے میں بھی اچھی خبر ملی ہے۔ ان کی انتخابی مہم نے گذشتہ تین مہینوں میں آٹھ کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر جمع کر لیے ہیں جب کہ صدارت کے تمام ریپبلیکن امیدواروں نے کُل تین کروڑ پچاس لاکھ ڈالر جمع کیے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں میں اوباما سے متعلق ملا جلا رد عمل

رائے عامہ کے جائزوں میں اوباما سے متعلق ملا جلا رد عمل

ریپبلیکنز میں سب سے زیادہ رقم مٹ رومنی نے اکٹھی کی ہے۔ وہ حالیہ مہینوں میں ایک کروڑ اسی لاکھ ڈالر جمع کر سکے ہیں۔ ریپبلیکنز کی 2008ء کے صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں بھی رومنی نے سب سےزیادہ فنڈ ز جمع کر لیے تھے لیکن بالآخر وہ سینیٹر جان مکین نے یہ مقابلہ جیت لیا تھا۔

XS
SM
MD
LG