رسائی کے لنکس

روسی صدر مغرب پر ’سبقت‘ حاصل نا کر سکے: صدر اوباما


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس سال کے اوائل میں ماسکو کی طرف سے یوکرین کے کرائمیا کے علاقے پر روس کے قبضے کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے اس کی مالیاتی مشکلات شروع ہو گئیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ روس کی معاشی مشکلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی صدر ولا دیمیر پوٹن نا ہی ’’اُن سے اور نا ہی امریکہ سے بازی‘‘ لینے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

ٹیلی ویژن چینل ’سی این این‘ پر اتوار کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں صدر اوباما نے اس تاثر کی نفی کی کہ پوٹن ''شطرنج کے ایک بڑے کھلاڑی" ہیں اور وہ یوکرین کے موجودہ بحران سے متعلق امریکہ اور مغرب سے بازی لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اوباما نے کہا کہ پوٹن کو ’’اپنے ملک کی کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت، ایک بڑے معاشی بحران اور سکڑتی ہوئی معیشت کا سامنا ہے۔‘‘

اس سال کے اوائل میں یوکرین کے علاقے کرائمیا کے روس سے الحاق کی منظور کی بعد امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے ماسکو کی مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے۔

صدر پوٹن تیل کی گرتی ہوئی قیمت اور روبل کرنسی کی قیمت میں 40 فیصد کمی کی وجہ سے کساد بازاری کے خطرے کے باوجود یوکرین سے متعلق اپنے موقف پر اڑے ہیں۔

معاشی بحران کے شدید ہونے پر ہفتہ کو ولادیمر پوٹن نے روسیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ آنے والے دنوں اور مہینوں میں ’’بعض مشکلات کا سامنا کرنے‘‘ کے لیے تیار رہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کا ملک کرائمیا میں رہنے والے اپنے ’’ہم وطنوں کی حمایت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا‘‘۔ روسی وزیر خارجہ نے مغربی پابندیوں کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

یوکرین حکومت، یورپی یونین اور امریکہ ماسکو پر یوکرین میں تشدد کو ہوا دینے اور روس نواز علیحدگی پسندوں کو مسلح کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

ماسکو ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ اس نے مارچ میں کرائمیا کے ساتھ الحاق اس وقت کیا جب ایک ریفرنڈم میں کرائمیا کی اکثریت نے روس کا حصہ بننے کا اظہار کیا۔

یوکرین کی حکومت اور مغرب نے اس رائے شماری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

XS
SM
MD
LG