رسائی کے لنکس

امریکی صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل نے 2011ء کے لیے ایک لاکھ 62 ہزار ڈالر انکم ٹیکس ادا کیا ہے۔

انہوں نے اپنی 7 لاکھ 90 ہزار ڈالر کی سالانہ آمدنی پر ساڑھے 20 فی صد کی شرح سے یہ وفاقی ٹیکس دیا۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ ٹیکس کی ادائیگی کے بارے میں وہائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے اس بیان کا پس منظر سال رواں میں صدارتی انتخاب کے لیے جاری مہم میں ٹیکس کی شرح کا ایک کلیدی مسئلے کے طورپر موضوع بننا ہے۔

صدر اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن اس ہفتے اپنی انتخابی مہم کے دوران لاکھ پتی افراد پر30 فی صد انکم ٹیکس لگانے پر زور دیتے رہے ہیں۔ ان کے اس منصوبے کو ’ بفٹ رول ‘ یا بفٹ کا اصول بھی کہا جاتا ہے۔

بفٹ ایک ارب پتی امریکی ہیں جو کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی سیکرٹری سے ان کے مقابلے میں زیادہ شرح سے انکم ٹیکس وصول کیا جانا انصاف نہیں ہے ۔ ان کے مجوزہ منصوبے کے نتیجے میں ایسے افراد پر ٹیکس کی شرح بڑھ جائے گی جن کی آمدنی کم ازکم 10 لاکھ ڈالر سالانہ ہے۔

صدارتی انتخابات میں ممکنہ طورپر مسٹر اوباما کے مدمقابل ارب پتی مٹ رومنی نے 2010ء میں 13 اعشارہ 9 فی صد کی شرح انکم ٹیکس ادا کیا ان کے اس منصوبے کے نتیجے میں ایسے افراد پر ٹیکس کی شرح بڑھ جائے گی جن کی آمدنی کم ازکم 10 لاکھ ڈالر سالانہ ہے۔ تھا۔

وہائٹ ہاؤس کا کہناہے کہ صدر اوباما کی کل آمدنی کا تقریباً نصف یعنی چار لاکھ ڈالر تنخواہ سے جب کہ باقی ماندہ رقم ان کی کتابوں کی فروخت سے حاصل ہوئی ہے۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق صدر اوباما نے گذشتہ سال کم ازکم 39 خیراتی اداروں کو ایک لاکھ 72 ہزار ڈالر سے زیادہ کے عطیات دیے تھے۔

XS
SM
MD
LG