رسائی کے لنکس

دھماکوں کو ایک سال گزرنے پر امریکہ کے شمال مشرقی شہر بوسٹن میں آج ان لوگوں کو خراج ِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے جو ایک سال قبل ان دھماکوں میں دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔

امریکہ میں بوسٹن میراتھن کے دوران ہونے والے دھماکوں کو ایک سال بیت گیا۔

دھماکوں کو ایک سال گزرنے پر امریکہ کے شمال مشرقی شہر بوسٹن میں آج ان لوگوں کو خراج ِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے جو ایک سال قبل ان دھماکوں میں دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔

اس مناسبت سے کلسیاؤں میں عین اس وقت گھنٹیاں بجائی جائیں گی جس وقت گذشتہ برس 15 اپریل کو میراتھن کی اختتامی پٹی کے قریب پہلا دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن بوسٹن دھماکوں کے ایک سال مکمل ہونے پر بوسٹن کے ہائنز کنونشن سنٹر میں ہونے والی تقریب میں شرکت کریں گے۔

اس موقعے پر امریکی نائب صدر بوسٹن دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ساتھ دھماکوں میں زندہ بچ جانے والوں اور ان ریسکیو اہلکاروں کو بھی خراج پیش کریں گے جنہوں نے دھماکوں کے بعد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔

واضح رہے گذشتہ برس دو چیچن بھائیوں نے دو پریشر ککروں میں بوسٹن میراتھن کے دوران یہ بم دھماکے کیے تھے۔ دھماکوں کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کے اعضاء کٹ گئے۔

بم دھماکوں کے بعد ان دھماکوں کے ذمہ داران تک پہنچنے کے لیے کئی روز تک کاروائی جاری رہی۔ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 26 سالہ تمرلان زارنیف ہلاک ہو گیا تھا جبکہ اس کے چھوٹے بھائی جوہر سرنائیو کو گرفتار کر لیا گیا جس پر مقدمہ جاری ہے۔

توقع ہے کہ جوہر سرنائیو کے مقدمے کی سماعت نومبر میں کی جائے گی۔ جوہر سرنائیو پر 30 سے زائد سنگین نوعیت کے الزامات ہیں جس کے نتیجے میں اسے سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری طرف رواں برس کی بوسٹن میراتھن اگلے پیر کو منعقد کی جائے گی۔ واضح رہے کہ بوسٹن میراتھن کا انعقاد 1897ء سے کیا جا رہا ہے۔ اس برس بوسٹن میراتھن میں 36,000 افراد کی شرکت متوقع ہے جبکہ گذشتہ برس بوسٹن میراتھن میں 25،000 افراد شریک ہوئے تھے۔

بوسٹن میراتھن کے لیے سیکورٹی کے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔ میراتھن کے راستے پر کیمروں سے کڑی نگرانی کی جائے گی اور پورے راستے پر ہزاروں پولیس والے تعینات کیے جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG