رسائی کے لنکس

القاعدہ افغانستان میں طالبان سے قریبی رابطے میں ہیں: امریکی عہدیدار


افغان طالبان (فائل فوٹو)

افغان طالبان (فائل فوٹو)

گزشہ موسم خزاں میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے طالبان کے نئے امیر ملا اختر منصور کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے مشن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس ملک میں القاعدہ، طالبان کے ساتھ زیادہ قریبی رابطے میں رہ کر کام کر رہی ہے۔

ترجمان برگیڈیئر جنرل چارلس کلیولینڈ نے کابل سے وڈیو کانفرنس کے ذریعے پینٹاگان میں صحافیوں کو بتایا کہ "القاعدہ کو ہم افغان حکومت کے لیے ایک حقیقی یا بڑا خطرہ تصور نہیں کرتے۔"

لیکن ان کا کہنا تھا کہ "کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ القاعدہ۔۔۔ نے طالبان کے ساتھ زیادہ قریبی طور کام شروع کر دیا ہے لہذا یہ طالبان کی کارروائیوں کو مہمیز کر سکتی ہے۔ وہ (القاعدہ) انھیں (طالبان) اپنی مہارت اور ایسی ہی دوسری چیزیں پیش کر سکتی ہے۔"

2001ء میں امریکہ کی زیر قیادت اتحادی افواج نے افغانستان میں القاعدہ کے میزبان طالبان کو نکال باہر کیا تھا۔

گزشہ موسم خزاں میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے طالبان کے نئے امیر ملا اختر منصور کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

کلیولینڈ کا کہنا تھا کہ "ہم اس وقت سے ان کے درمیان زیادہ رابطوں میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔"

ان کے بقول افغانستان میں القاعدہ کے ایک سو سے تین سو تک ارکان موجود ہو سکتے ہیں۔

"اگرچہ ان کی تعداد قابل ذکر حد تک ختم ہو چکی ہے لیکن یہ اس قابل ہیں کہ فوری طور پر دوبارہ جمع ہوں اور یہ اس قابل ہیں کہ ایک خطرہ بن سکیں۔"

2014ء میں بین الاقوامی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد اب وہاں 9800 امریکی فوجیوں سمیت 13000 نیٹو اہلکار تعینات ہیں جو کہ بنیادی طور پر مقامی سکیورٹی فورسز کو تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

لگ بھگ تین ہزار امریکی فوجی طالبان، القاعدہ اور داعش کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

ترجمان چارلس کلیولینڈ نے بتایا کہ امریکہ نے رواں سال جنوری سے یکم مارچ تک افغانستان میں ایک سو سے کچھ کم انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کیں جن کا ہدف القاعدہ اور داعش کے جنگجو تھے۔ اپریل میں صرف 19 تک حملے کیے گئے۔

ان کے اندازوں کے مطابق ان کارروائیوں سے افغانستان میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور اب یہ تین ہزار کی بجائے ایک ہزار کے لگ بھگ رہ گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG