رسائی کے لنکس

عدم برداشت کا رویہ امریکہ کے لیے ’نقصان دہ ہے‘


کونسل آف امریکن اسلامک کے بورڈ ممبر ایصام زعیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہم یہاں یہ کہنے آئے ہیں کہ اسلامو فوبیا ایک مرض ہے۔ تمام مسلمانوں سے خوف کھانا بلا جواز ہے۔‘‘

امریکہ کی ریاست اوہائیو کے شہر، کلیولینڈ میں پیر کو ری پبلکن پارٹی کے کنونشن کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر کونسل آف امریکن اسلامک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور تنظیم کے بورڈ ممبر ایصام زعیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ عدم برداشت کے رویے کو مسترد کیا جانا چاہیئے۔

کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہاد اعواد نے کہا کہ ہم واشنگٹن سے یہاں ریپبلکن پارٹی کنونشن کے شرکا کو یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ ’’اسلامو فوبیا اور عدم برداشت کو مسترد کر دیں۔ کیونکہ یہ صرف امریکی مسلمانوں کو ہی نہیں، امریکہ کو بھی نقصان پہنچائے گی۔ یہ ہماری اقدار، ہمارے اصولوں ، اس ملک کے قوانین، اور امریکہ کے آئین کو ٹھیس پہنچائے گی۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ’’خوف شاید کچھ مقامات پر کچھ سیاستدانوں کو فائدہ پہنچائے، لیکن یہ اچھی پالیسی نہیں ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کو بانٹ دے گا۔۔ مجھے امید ہے کہ کنونشن کے مندوبین اس پیغام کو سمجھیں گے۔ وہ کامیاب ہوں یا نہ ہوں، یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی اقدار، اپنے وقار، سب کو ساتھ لے کر چلنے کی، آزادی کی اور انصاف کی اقدار کے ساتھ دیانتدار رہیں۔‘‘

اس موقع پر کونسل آف امریکن اسلامک کے بورڈ ممبر ایصام زعیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہم یہاں یہ کہنے آئے ہیں کہ اسلامو فوبیا ایک مرض ہے۔ تمام مسلمانوں سے خوف کھانا بلا جواز ہے۔ ہم یہ پیغام دینے آئے ہیں، کہ ہم امریکی ہیں، ہم اس ملک سے پیار کرتے ہیں اور ہمیں قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہیئے، نہ ہی ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جانا چاہیئے۔‘‘

XS
SM
MD
LG