رسائی کے لنکس

عبدالرزاق علی ارتن کولمبس میں سپردِ خاک


عبدالرزاق علی ارتن (فائل فوٹو)

عبدالرزاق علی ارتن (فائل فوٹو)

عبدالرزاق ارتن کو کیمپس کے ایک پولیس افسر نے اُس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب اُس نے پیر کے روز اپنی گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھا دی اور وہاں کھڑے متعدد افراد پر چاقو سے حملہ کر کے اُن میں سے 11 کو زخمی کر دیا۔

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں لوگوں کے ایک ہجوم پر حملہ کرنے والے 18 سالہ عبدالرزاق علی ارتن کو غیر معمولی طور پر سادہ اسلامی انداز میں کولمبس میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

عبدالرزاق ارتن کو کیمپس کے ایک پولیس افسر نے اُس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب اُس نے پیر کے روز اپنی گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھا دی اور وہاں کھڑے متعدد افراد پر چاقو سے حملہ کر کے اُن میں سے 11 کو زخمی کر دیا۔

حکام کا خیال ہے کہ اُس نے بیرونِ ملک دہشت گرد تنظیموں سے متاثر ہو کر یہ حملہ کیا، تاہم وہ ابھی اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

تدفین کے مراحل ایک گھنٹہ تک جاری رہے اور اس میں صرف ارتن کے رشتہ داروں اور مقامی صومالی برادری کے چند لوگوں نے شرکت کی۔ سب سے پہلے ارتن کی میت کو غسل دیا گیا اور پھر اسے کفن پہنایا گیا۔ بعد میں وہاں موجود افراد نے نمازِ جنازہ پڑھی اور مرنے والے کیلئے مغفرت کی دعا کی۔

کولمبس کی مسجد التقویٰ کے امام شیخ حسین گولَید عدن نے مسجد کے ایک الگ کمرے میں میت کو غسل دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ارتن کی والدہ راحمہ نے اپنے بیٹے کی میت دیکھنے اور آخری بار اسے بوسہ دینے کیلئے درخواست کی۔ وہ رو رہی تھیں اور اُن کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔

امام نے بتایا کہ ارتن کی والدہ نے میت کیلئے یہ الفاظ کہے:

’ ’میرے بیٹے، میں تمہیں پیار کرتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ تم دہشت گرد نہیں ہو۔ میں نے تمہیں بہت پیار سے پالا ہے اور ہمیشہ تمہارے لئے روشن مستقبل کی اُمید رکھی ہے۔ خدا تم پر اپنی رحمت کرے ۔‘‘

ارتن کی والدہ، اُس کے چھ بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار تدفین کے موقع پر انتہائی صدمے کی کیفیت میں دکھائی دیے۔ اُنہوں نے اخباری نمائندوں سے اپنے بیٹے کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا۔

لیکن ارتن کے ایک ماموں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو خاندان کے مؤقف کے بارے میں بتایا:

’’آپ دیکھ رہے ہیں کہ بہت کم لوگ یہاں آئے ہیں اور خاندان کے اندر ہی سادگی اور خاموشی سے آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں۔ یہاں پریس بھی موجود نہیں ہے۔‘‘

اُنہوں نے کہا کہ اِس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس لئے خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ حتمی نتائج سامنے آنے سے پہلے کوئی بات نہیں کریں گے۔

قومی ذرائع ابلاغ اور مقامی پریس کے نمائندے مسجد ابنِتھیمیہ اور کولمبس کے اسلامی مرکز کے صدر دروازے کے باہر ہی رہے۔ ارتن کی میت کو شہر میں مسلمانوں کے قبرستان لے جایا گیا۔

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایک ماہرِ ارضیات اور شعبہ طب کے طالب علم عدن نے کہا کہ اُنہوں نے کولمبس کے علاقے میں صومالی پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی کمیونٹی میں اتنی خاموشی سے ادا کیا جانے والا جنازہ نہیں دیکھا جیسا ارتن کا تھا۔ یہاں صومالی کمیونٹی تقریباً 40 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ عدن نے کہا:

’’میرے خیال میں اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ سردی کا موسم ہے۔ دوسرے جنازے کی نوعیت، جو ایک ایسے شخص کا ہےجس پر دہشت گرد حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ تیسری وجہ میرے خیال میں یہ ہو سکتی ہے کہ لوگوں نے اس خوف سے جنازے میں شرکت سے گریز کیا کہ اُن کے چہرے ٹیلی ویژن پر دیکھے جائیں گے کیونکہ رپورٹر کیمرے لیے مسجد کے باہر جمع تھے ۔ آخری بات یہ ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس حملے کے بعد کمیونٹی کس قدر صدمے میں ہے اور خوف سے دوچار ہے۔"

وفاقی حکام کا خیال ہے کہ ارتن کے اس حملے کا مقصد ممکنہ طور پر دہشت گردی ہو سکتا ہے۔ اُن کے اِن شبہات سے ارتن کے خاندان اور تمام تر کمیونٹی کو شدید دھچکہ لگا ہے۔

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر محمد صلاح کہتے ہیں کہ ارتن کے دوست احباب اور خاندان کے ارکان نے ارتن کو رجائیت پسند طالب علم قرار دیا ہے جس کے اپنے خواب تھے۔ پروفیسر صلاح کہتے ہیں:

’’اُنہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بہت پُراُمید تھا اور تعلیم حاصل کرنے کا خواہاں تھا تاکہ اپنی کمیونٹی کی مدد کر سکے۔ ہم سب یونیورسٹی میں پیش آنے والے اس واقعے پر شدید صدمے میں ہیں جس میں یونیورسٹی کے طالب علم زخمی ہوئے اور اُس کی موت ہوئی۔‘‘

XS
SM
MD
LG