رسائی کے لنکس

مچھلیوں کے تحفظ پر کام کرنے والی امریکی خاتون کے لیے ماحولیاتی تحفظ کا ایوارڈ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جین لب چینکو نے 200,000 ڈالر کا ٹائیلر انعام مشترکہ طور پر بھارت کی گوا یونیورسٹی کے مادہو گدگل کے ساتھ حاصل کیا ہے جنہوں نے مقامی افراد کی شمولیت کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔

امریکہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ماہی گیری کو روکنے کے ایک متنازع طریقہ کار کی حامی ایک سرگرم رکن نے ماحولیاتی تحفط کا ’ٹائیلر انعام' جیت لیا ہے۔

جین لب چینکو نے 200,000 ڈالر کا 'ٹائیلر انعام' مشترکہ طور پر بھارت کی گوا یونیورسٹی کے مادہو گدگل کے ساتھ حاصل کیا ہے جنہوں نے مقامی افراد کی شمولیت کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔

جین لب چینکو نے 2009 ء سے لے کر 2013ء تک ماہی گیری کے مشترکہ پروگرام 'کیچ شیئر' کی حمایت کی جب وہ امریکی قومی سمندری اور ماحولیاتی انتظامیہ کی سربراہ تھیں۔

'کیچ شیئر' پروگرام کے تحت کسی بھی مخصوص علاقے سے مچھلیوں کے شکار کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کی جاتی ہے اور پھر اس حد کے اندر شکار کی گئی مچھلیوں کو ماہی گیروں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

امریکہ میں کئی اقسام کی مچھلیوں کی آبادی کو برقرار رکھنے کی وجہ ان پروگراموں کو قرار دیا جاتا ہے۔

لب چینکو نے کہا کہ "2000ء سے 2013ء تک زیادہ تعداد میں شکار کی گئی مچھلیوں کی اقسام کی تعداد 92 سے گھٹ کر 40 رہ گئی"۔

اس پروگرام کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ "ایک نا ختم ہونے والی دوڑ" کو روکتا ہے جس کے تحت ماہی پروری کے مستقبل کا خیال کیے بغیر ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ مچھلیوں کو پکڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مچھلیوں کو پکڑنے کے مشترکہ پروگرام کے تحت بتدریج ماہی گیروں کو زیادہ مقدار میں مچھلیاں حاصل ہوتی ہیں جس سے ماہی پروری میں اضافہ ہوتا ہے۔

تاہم اس پروگرام پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے چھوٹے ماہی گیروں کی مارکیٹ میں جگہ نہیں رہتی اور اس صنعت میں آنے والے نئے لوگوں کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

XS
SM
MD
LG