رسائی کے لنکس

امریکہ کی طرف سے بڑھتے ہوئے پاک افغان روابط کا خیر مقدم

  • ن ہ

پاکستانی وزیراعظم گیلانی سے پروفیسر ربانی کی ملاقات

پاکستانی وزیراعظم گیلانی سے پروفیسر ربانی کی ملاقات

پاکستان اور افغانستان نے حال ہی میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات مکمل کیئے ہیں جن کا مقصد طالبان باغیوں کے ساتھ صلح صفائی کے عمل کو تیز کرنا اور افغانستان میں تقریباً ایک عشرے سے جاری جنگ و جدال کو ختم کرنا ہے ۔ امریکہ نے، جو اس سال گرمیوں کے موسم میں اپنی لڑاکا فوج کی بتدریج واپسی شروع کرنا چاہتا ہے، کابل اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کا خیر مقدم کیا ہے ۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی ایسے طالبان باغیوں کے ساتھ مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں جو تشدد ترک کرنے اور دہشت گرد گروپوں سے قطع تعلق کرنے کو تیار ہوں۔ انھوں نے حال ہی میں ایک ستّر رکنی اعلیٰ امن کونسل قائم کی ہے جس میں افغان معاشرے کے تمام نسلی گروپوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ اس کونسل کا پچیس رکنی وفد، کونسل کے لیڈر برہان الدین ربانی کی قیادت میں پہلی بار اس مہینے ہمسایہ ملک پاکستان گیا تا کہ افغانستان میں مصالحت کے عمل میں پاکستان کا تعاون حاصل کیا جا سکے۔

افغان امن وفد کے ارکان نے تقریباً چار روز تک پاکستان کے سویلین اور فوجی لیڈروں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیئے ۔ فریقین نے افغانستان میں مصالحت کے عمل کو عوامی سطح پر فروغ دینے پر اتفاق کیا اور اس مقصد کے لیئے روایتی جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس وفد کے دورے کے نتیجے میں ایک اہم فیصلہ یہ ہوا ہے کہ سرکاری سطح پر ایک مشترکہ کمیشن قائم کیا جائے۔ پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ ان کا ملک اس عمل کی حمایت کرے گا بشرطیکہ خود افغان اسے آگے بڑھائیں اور اس کی ذمہ داری قبول کریں۔

انھوں نے کہا’’انہیں خود یہ طے کرنا ہے کہ وہ پاکستان سے کیا چاہتے ہیں اور پاکستان مدد کے لیئے تیار ہو گا۔ وہ اس پورے عمل پر نظر رکھنے کے لیئے ایک مشترکہ کمیشن قائم کرنا چاہتے تھے اور پاکستان نے یہ بات مان لی ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ امن کے لیئے فوجی کارروائی کے علاوہ سیاسی رابطے، انتظامی معاملات اور اقتصادی ترقی پر بھی توجہ دینا ہوگی، اور پاکستان ان تمام شعبوں میں افغانستان کی مدد کرے گا۔‘‘

پاکستانی اور افغان عہدے دار کہتے ہیں کہ ان کا بنیادی مقصد باہم اعتماد پیدا کرنا اور باغی گروپوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرنا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی فوج نے افغانستان پر قبضہ نہیں کر رکھا ہے۔افغان وفد کے رکن محمد معصوم اسٹینکزئی کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو درپیش سیکورٹی کے مسائل کے لیئے افغانستان اور پاکستان نے ایک دوسرے پر الزام تراشی بند کر دی ہے۔ پاکستان کا رول اہم ہے کیوں کہ سرحد کے دونوں طرف لڑنے والے باغی گروپوں کے درمیان رابطہ قائم ہے۔

امریکی اور افغان عہدے دار وں میں یہ خیال عام ہے کہ باغی افغان گروپوں کے بعض اہم لیڈر پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں اور ان کے پاکستان کے عسکریت پسند گروپوں اور ملک کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کے بعض عناصر سے تعلقات ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر حسن عسکری جیسے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اور دوسرے مغربی اتحادیوں کے دباؤ کے باوجود، ہو سکتا ہے کہ پاکستان بعض افغان باغی گروپوں سے اپنے تعلقات ختم کرنا نہ چاہے۔

پروفیسر عسکری کہتے ہیں’’ان تعلقات سے مدد ملے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کو اپنے اس موقف پر نظر ثانی کرنی پڑے گی کہ پاکستان تمام گروپوں کے ساتھ تعلقات ختم کر دے۔پاکستان وہی پالیسی اختیار کرے گا جو اس کے اپنے مفاد میں ہوگی، اور میرے خیال میں، اس نکتے پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان اختلاف باقی رہے گا۔ اگر مصالحت کو آگے بڑھانا ہے، تو پاکستان کے لیئے عملی طور پر یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ طالبان کے ہر گروپ کے ساتھ تصادم کی پالیسی اختیار کرے۔‘‘

قائم مقام خصوصی امریکی نمائندے فرینک روجیرو

قائم مقام خصوصی امریکی نمائندے فرینک روجیرو

افغان ہائی پیس کونسل کے دورے کے ساتھ ہی، افغانستان اور پاکستان کے لیئے قائم مقام خصوصی امریکی سفیر فرینک روجیرو کا اسلام آباد کا دورہ شروع ہوا۔ افغان وفد کے لیڈروں اور پاکستانی عہدے داروں کے ساتھ ملاقات کے بعد،رجیرو نے کہا کہ امریکہ، بغاوت پر قابو پانے کے لیئے اسلام آباد اور کابل کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کا خیر مقدم کرتا ہے ۔’’امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ رابطوں میں اضافہ کریں اور اپنے تعلقات بہتر بنائیں۔ اور اس دورے میں ہم نے جو کچھ دیکھا ہے، اور واشنگٹن میں جو کچھ سنا ہے، اس سے یہی معلوم ہوا ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔‘‘

جنوبی افغانستان میں پُر تشدد حملوں کے باوجود، سفیر رجیرو نے کہا کہ طالبان باغیوں کے خلاف فوجی مہم میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن انھوں نے کہا کہ ملک میں امن قائم کرنے کے لیئے جو بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں، انہیں سنگین چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔انھوں نے کہا کہ امریکی فورسز میں اضافے کے ساتھ، امریکی فوجیں جنوبی افغانستان کے علاقوں میں داخل ہو گئی ہیں۔ میرے خیال میں، مجموعی طور پر سیکورٹی کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے ۔

اگرچہ امریکہ کے خصوصی سفیر اور افغان امن وفد کے ارکان اسلام آباد کے حالیہ مذاکرات سے پُر امید نظر آئے، لیکن یہ بات اب تک واضح نہیں ہے کہ پاکستان بعض افغان باغی گروپوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیئے اپنا اثر و رسوخ کس طرح استعمال کرے گا۔ تا ہم، پاکستانی عہدے داروں نے اشارہ دیا ہے کہ پسِ پردہ کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے ۔

XS
SM
MD
LG