رسائی کے لنکس

”پاکستان میں یکطرفہ فوجی کارروائی کی حکمت عملی کی تیاری“

  • ب

امریکہ ایک ایسی فوجی حکمت عملی تیا رکر رہاہے جس کے تحت اگر امریکی سرزمین پر ہونے والے کسی دہشت گردانہ حملے کی جڑیں پاکستان میں پائیں گئیں توامریکی فوج اس جنوبی ایشیائی ملک میں یکطرفہ طور پر کارروائی کر سکے۔

ہفتہ کو شائع ہونے والے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں اعلیٰ امریکی فوجی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ نیویار ک میں اس ماہ کے اوائل میں دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش کرنے کے جرم میں پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کی گرفتار ی کے بعد اوباما انتظامیہ پاکستان میں فوجی کارروائی کے لیے نئی تجاویز پر غور کرر ہی ہے۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ فیصل شہزاد نے دہشت گردی کی تربیت اور مدد پاکستانی طالبان سے حاصل کی ۔

فوجی عہدے داروں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ پاکستان میں حملے کا فیصلہ انتہا ئی حالات میں اُس جگہ کرے گا جہاں موجودہ فوجی کارروائی غیر موزوں ہو گی۔ تاہم اخبار نے ان فوجی حکام کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں۔

”پاکستان میں یکطرفہ فوجی کارروائی کی حکمت عملی کی تیاری“

”پاکستان میں یکطرفہ فوجی کارروائی کی حکمت عملی کی تیاری“

امریکی سی آئی اے اس وقت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کے مشتبہ ٹھکانو ں پر بغیر پائلٹ کے ڈرون نامی طیاروں سے میزائل حملے کررہی ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق فوجی عہدے دار امریکی ا سپیشل فورسز کی چھوٹی ٹیموں کو پاکستانی سرحدی علاقے میں بھیج کر مخصوص اہداف کے خلاف کارروائی کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اوباما انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کے خفیہ اداروں کے حکام کے ساتھ تعلقات کو بھی مزید مضبو ط کرنے پر غور کیا جار ہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ امریکی اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں جنوب مغربی سرحدی شہر کوئٹہ میں ایک مشترکہ انٹیلی جنس مرکز کھولنے پر بھی غور کیا جار ہا ہے۔ ایسا ہی ایک مشترکہ مرکز پشاور کے قریب پہلے سے کام کر رہا ہے۔

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کو اس وقت یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر اُسے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن، نائب لیڈر ایمن الزواہری یا پھر طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کے ٹھکانوں کے بارے کوئی ٹھوس معلومات ملیں تو وہ پاکستان میں یکطرفہ طو رپر فوجی کارروائی کرسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG