رسائی کے لنکس

پاکستانی خفیہ ایجنسی کو انتہائی بااختیاربنانے میں امریکہ کا کردار

  • گیری تھامس

پاکستانی فوج کے چیف جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل پاشا امریکی ایڈمرل مائیک ملن کے ساتھ (فائل فوٹو)

پاکستانی فوج کے چیف جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل پاشا امریکی ایڈمرل مائیک ملن کے ساتھ (فائل فوٹو)

امریکہ کے ان الزامات کے بعد کہ پاکستان کی انٹیلی جنس سروس یعنی آئی ایس آئی ، افغانستان میں امریکی تنصیبات پر حملوں میں شدت پسندوں کی براہ راست مدد کرتی رہی ہے، ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ لیکن وائس آف امریکہ کے سینیئر نامہ نگار، گیری تھامس کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے اتنے طاقتور اور با اختیار بن جانے میں ایک لحاظ سے امریکہ کا بھی ہاتھ ہے۔

22 ستمبر کو امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سبک دوش ہونے والے چیئر مین مائک ملن نے جب آئی ایس آئی پر افغان شدت پسندوں کی مدد کا الزام عائد کیا تو ہلچل مچ گئی۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی افغانستان میں پاکستان کا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے شدت پسندوں کو استعمال کر رہی ہے ۔’’حکومت پاکستان اور خاص طور سے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے اپنی پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے متشدد انتہا پسندی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس طرح نہ صرف ہماری اسٹریٹجک شراکت داری خطرے میں پڑ گئِ ہے بلکہ پاکستان نے ایک با وقار اور علاقے میں با اثر ملک بننے کا موقع بھی گنوا دیا ہے۔‘‘

لیکن آئی ایس آئی کو آج جو ممتاز مقام حاصل ہے، اس کی کچھ ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ آئی ایس آئی نے افغانستان میں پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے عسکریت پسندوں کو سب سے پہلے 1980 کی دہائی میں سوویت قبضہ ختم کرنے کے لیے استعمال کیا اور اس کام میں اسے سی آئی اے سے مدد ملی۔ یونیورسٹی آف مونٹانا کے پروفیسر اووِن سرز آئی ایس آئی پر ایک نئی کتاب لکھنے کے لیے تحقیق کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سی آئی اے نے آئی ایس آئی کو کھلی چھٹی دے دی تھی کہ نقد رقم اور ہتھیاروں کی بھاری مقدار کس طرح سوویت فوجوں سے لڑنے والے گروپوں میں تقسیم کی جائے گی۔

’’ہم نے یہ بات تسلیم کر لی کہ سوویت روس کے خلاف جنگ میں کس کو پیسہ ملے گا، ہتھیار کسے دیے جائیں گے اس کا فیصلہ آئی ایس آئی کرے گی۔ ہم نے انہیں بادشاہ گر کا رول دے دیا اور آئی ایس آئی نے یہ رول ہماری مرضی سے ادا کیا۔‘‘

سرزکہتے ہیں کہ آئی ایس آئی نے بیشتر پیسہ اور ہتھیار گلبدین حکمت یار اور جلال الدین حقانی جیسے اسلامی انتہا پسندوں کو دیے اور ان کے ساتھ تعلقات قائم کیے جو آج تک قائم ہیں اور واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات خراب ہونے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ حقانی نیٹ ورک پر جو اب طالبان کا اتحادی ہے، افغانستان میں بہت سے حملوں کا الزام عائد کرتا ہے ۔

آئی ایس آئی ایک برطانوی فوجی افسر نے 1948 میں بر صغیر کی تقسیم کے بعد قائم کی تھی۔ اس وقت اس کی اصل ذمہ داری یہ تھی کہ پاکستانی فوج کو بھارتی تخریب کاری سے محفوظ رکھا جائے۔ لیکن آئی ایس آئی کی طاقت میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا گیا اور سویلین حکومتوں نے اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ کاغذ پر تو آئی ایس آئی وزیرِ اعظم کو جوابدہ ہے لیکن در اصل یہ پوری طرح فوج کے کنٹرول میں ہے ۔

اوون سرز کہتے ہیں کہ صحیح معنوں میں فوجی حکمراں جنرل ضیا ء الحق نے آئی ایس آئی کو خفیہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ جنرل ضیا ء کو سوویت روس کے خلاف جنگ کے لیے بہت بڑی رقم ملی تھی جس کا کچھ حصہ آئی ایس آئی کے افسروں کے ہاتھ لگ گیا۔ لیکن اس زمانے میں شدت پسند اسلامی عناصر سے آئی ایس آئی کے جو رابطے ہوئے، وہ دیر پا ثابت ہوئے۔

اوون سرزکہتے ہیں’’میرا خیال ہے کہ ان لوگوں نے آئی ایس آئی کے افسروں کو متاثر کیا۔ ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ہم نے ایک سپر پاور کو ، سوویت یونین کو، شکست دے دی ہے۔ اس سے ہمارے نظریے، ہمارے مذہب کی طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔ ہم اس طاقت سے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘

پاکستانی خفیہ ایجنسی کو انتہائی بااختیاربنانے میں امریکہ کا کردار

پاکستانی خفیہ ایجنسی کو انتہائی بااختیاربنانے میں امریکہ کا کردار

تجزیہ کاروں میں بڑی حد تک اتفاق ہے کہ طالبان کی تخلیق میں اور 1990 کی دہائی میں ان کے بر سرِ اقتدار آنے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ایڈمرل ملن کے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں سمجھتی ہیں کہ آئی ایس آئی اور طالبان کے درمیان تعلقات اب بھی مضبوط ہیں۔

تا ہم، پاکستان نے بار بار اس قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے۔ ایڈمرل ملن کے الزامات کے بعد، وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا’’ان الزامات سے افغانستان کے حوالے سے، امریکی حکومت کے اندر الجھن اور انتشار کا اظہار ہوتا ہے ۔ ہم حقانی گروپ کے ساتھ گٹھ جوڑ یا افغانستان میں درپردہ جنگ کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔‘‘

لیکن جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر کرسٹین فیئر کہتی ہیں کہ طالبان اور ان کے اتحادی گروپوں کے ساتھ آئی ایس آئی کے تعلقات ہیں تو ضرور، لیکن یہ بہت پیچیدہ ہیں۔’’طالبان کے بہت سے نیٹ ورکس ہیں جن کے گلبدین حکمت یار، حقانی وغیرہ سے ،وقتی طور پر، حسبِ ضرورت تعلقات قائم ہو جاتے ہیں ۔ آئی ایس آئی سے ان سب کے الگ الگ نوعیت کے تعلقات ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم سے غلطی یہ ہوئی ہے کہ ہم نے یہ نہیں سمجھا ہے کہ گذشتہ دس برسوں میں طالبان میں کتنی تبدیلیاں آئی ہیں۔ وہ بہت بدل گئے ہیں، لیکن ہماری سوچ تبدیل نہیں ہوئی ہے۔‘‘

اوون سرز کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی مذاکرات پر کڑی نظر رکھتی ہے جن کے نتیجے میں افغانستان میں سیاسی مصالحت ہو سکتی ہے کیوں کہ وہ چاہتی ہے کہ مذاکرات کے نتائج کو کنٹرول کرے۔’’جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، اگر افغان طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی ہے بھی، تو پاکستانی آئی ایس آئی پیچھے بیٹھی ان سے کہہ رہی ہے کہ بہت زیادہ آگے جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تمہارے حتمی مفادات کا فیصلہ ہمیں کرنا ہے ۔ مذاکرات کی میز پر ہمیں ایک نشست ملنی چاہئِے۔ اگر آپ نے کوئی ایسا سمجھوتہ کیا جو ہمیں پسند نہ ہوا، تو ہم، یعنی آئی ایس آئی، پاکستانی فوج، آپ کو پیچھے کھینچ لے گی۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اپنی تخلیق کے 63 سال بعد بھی، آئی ایس آئی کو اور پاکستانی سیکورٹی کو، اب بھی بھارت سے، اور افغانستان سمیت علاقے میں، اس کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی اثر و رسوخ سے خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG